مشینی زندگی پر اشعار

گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے

بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا

بشیر بدر

گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیا

ہوتے ہی صبح آدمی خانوں میں بٹ گیا

ندا فاضلی

صبح ہوتے ہی نکل آتے ہیں بازار میں لوگ

گٹھریاں سر پہ اٹھائے ہوئے ایمانوں کی

احمد ندیم قاسمی

ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے

کہیں کاروبار سی دوپہر کہیں بد مزاج سی شام ہے

بشیر بدر

ہم تحفے میں گھڑیاں تو دے دیتے ہیں

اک دوجے کو وقت نہیں دے پاتے ہیں

فریحہ نقوی

نظام زر میں کسی اور کام کا کیا ہو

بس آدمی ہے کمانے کا اور کھانے کا

انور شعور