رقیب پر شاعری

کلاسیکی شاعری میں عشق کے بیانیے میں جو چند بنیادی کردار ہیں ان میں سے ایک رقیب بھی ہے۔ رقیب معشوق کا ایک دوسرا چاہنے والا ہوتا ہے جو معشوق کے لئے ایک ہوس کارانہ جذبہ بھی رکھتا ہے اورمعشوق بھی اپنے سچے عاشق کو چھوڑ کر رقیب سے راہ ورسم رکھتا ہے ۔ معشوق کی رقیب سے یہ قربت ہی عاشق کیلئے دکھ اور پریشانی کا سب سے بڑا سبب بنتی ہے ۔

اس طرح زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ

جیسے کوئی نباہ رہا ہو رقیب سے

ساحر لدھیانوی

نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے

پسینہ پوچھیے اپنی جبیں سے

انور دہلوی

جو کوئی آوے ہے نزدیک ہی بیٹھے ہے ترے

ہم کہاں تک ترے پہلو سے سرکتے جاویں

whoever comes takes his place here right by your side

how long with this displacement from you shall I abide

whoever comes takes his place here right by your side

how long with this displacement from you shall I abide

میر حسن

لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب

دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں

قتیل شفائی

ادھر آ رقیب میرے میں تجھے گلے لگا لوں

مرا عشق بے مزا تھا تری دشمنی سے پہلے

کیف بھوپالی

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا

نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا

that new greeting in your note, from whom was it do say

if not my rival's signature, whose name was it then, pray?

that new greeting in your note, from whom was it do say

if not my rival's signature, whose name was it then, pray?

داغؔ دہلوی

مجھ سے بگڑ گئے تو رقیبوں کی بن گئی

غیروں میں بٹ رہا ہے مرا اعتبار آج

احمد حسین مائل

اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل

میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا

bowing to her footsteps brought me shame I dread

I went to my rival's street standing on my head

bowing to her footsteps brought me shame I dread

I went to my rival's street standing on my head

مومن خاں مومن

جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار

اے کاش جانتا نہ ترے رہگزر کو میں

To my rival's stead a thousand times I had to go

Would it be, the path you often tread I did not know

To my rival's stead a thousand times I had to go

Would it be, the path you often tread I did not know

مرزا غالب

بیٹھے ہوئے رقیب ہیں دل بر کے آس پاس

کانٹوں کا ہے ہجوم گل تر کے آس پاس

جگر مراد آبادی

رفیقوں سے رقیب اچھے جو جل کر نام لیتے ہیں

گلوں سے خار بہتر ہیں جو دامن تھام لیتے ہیں

نامعلوم

جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو

اک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا

you collect my enemies, why in this manner? pray

a spectacle this is and not the way to remonstrate

you collect my enemies, why in this manner? pray

a spectacle this is and not the way to remonstrate

مرزا غالب

اپنی زبان سے مجھے جو چاہے کہہ لیں آپ

بڑھ بڑھ کے بولنا نہیں اچھا رقیب کا

لالہ مادھو رام جوہر

ہمیں نرگس کا دستہ غیر کے ہاتھوں سے کیوں بھیجا

جو آنکھیں ہی دکھانی تھیں دکھاتے اپنی نظروں سے

شیخ ابراہیم ذوقؔ

رقیب قتل ہوا اس کی تیغ ابرو سے

حرام زادہ تھا اچھا ہوا حلال ہوا

آغا اکبرآبادی

غیر سے کھیلی ہے ہولی یار نے

ڈالے مجھ پر دیدۂ خوں بار رنگ

امام بخش ناسخ

آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب

پھر رقیبوں سے مجھ کو کیا مطلب

حفیظ جونپوری

دوزخ و جنت ہیں اب میری نظر کے سامنے

گھر رقیبوں نے بنایا اس کے گھر کے سامنے

پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی

سامنے اس کے نہ کہتے مگر اب کہتے ہیں

لذت عشق گئی غیر کے مر جانے سے

I would not say this to her, but now it can be said

the pleasure of romance has gone, now with my rival dead

I would not say this to her, but now it can be said

the pleasure of romance has gone, now with my rival dead

نامعلوم

کہتے ہو کہ ہم درد کسی کا نہیں سنتے

میں نے تو رقیبوں سے سنا اور ہی کچھ ہے

امیر مینائی

گو آپ نے جواب برا ہی دیا ولے

مجھ سے بیاں نہ کیجے عدو کے پیام کو

مومن خاں مومن

جس کا تجھ سا حبیب ہووے گا

کون اس کا رقیب ہووے گا

میر سوز

غصہ آتا ہے پیار آتا ہے

غیر کے گھر سے یار آتا ہے

محمد علی خاں رشکی

یاد آئیں اس کو دیکھ کے اپنی مصیبتیں

روئے ہم آج خوب لپٹ کر رقیب سے

حفیظ جونپوری

ہم اپنے عشق کی اب اور کیا شہادت دیں

ہمیں ہمارے رقیبوں نے معتبر جانا

عالم تاب تشنہ

کوئے جاناں میں نہ غیروں کی رسائی ہو جائے

اپنی جاگیر یہ یارب نہ پرائی ہو جائے

لالہ مادھو رام جوہر

یہ کہہ کے میرے سامنے ٹالا رقیب کو

مجھ سے کبھی کی جان نہ پہچان جائیے

بیخود دہلوی

وہ جسے سارے زمانے نے کہا میرا رقیب

میں نے اس کو ہم سفر جانا کہ تو اس کی بھی تھی

ظہور نظر

صدمے اٹھائیں رشک کے کب تک جو ہو سو ہو

یا تو رقیب ہی نہیں یا آج ہم نہیں

لالہ مادھو رام جوہر

رقیب دونوں جہاں میں ذلیل کیوں ہوتا

کسی کے بیچ میں کمبخت اگر نہیں آتا

کیفی حیدرآبادی

حال میرا بھی جائے عبرت ہے

اب سفارش رقیب کرتے ہیں

حفیظ جونپوری

آغوش سیں سجن کے ہمن کوں کیا کنار

ماروں گا اس رقیب کوں چھڑیوں سے گود گود

آبرو شاہ مبارک

مت بخت خفتہ پر مرے ہنس اے رقیب تو

ہوگا ترے نصیب بھی یہ خواب دیکھنا

میر حسن