Ameer Minai's Photo'

امیر مینائی

1829 - 1900 | حیدر آباد, ہندوستان

داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں

داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں

غزل 42

اشعار 117

کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیں

ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے

  • شیئر کیجیے

تم کو آتا ہے پیار پر غصہ

مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے

  • شیئر کیجیے

کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیں

شوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر

where in this world does ones beloved's beauty not reside

if the zeal for sight you have, the vision too provide

where in this world does ones beloved's beauty not reside

if the zeal for sight you have, the vision too provide

  • شیئر کیجیے

ای- کتاب 148

ابرکرم

 

1913

امیر مینائی

 

1941

امیر و داغ کے کلام کا انتخاب

 

1943

امیر و داغ کی نازک خیالیاں

 

 

امیراللغات

حصہ۔001

1891

امیراللغات

حصہ۔ 002

1892

دبدبہ امیری

 

1937

دبدبۂ امیری

 

 

دبستان امیر مینائی

 

1985

دیوان امیر

 

1893

تصویری شاعری 19

مانی ہیں میں نے سیکڑوں باتیں تمام عمر آج آپ ایک بات میری مان جائیے

تم کو آتا ہے پیار پر غصہ مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے

کہتے ہو کہ ہم_درد کسی کا نہیں سنتے میں نے تو رقیبوں سے سنا اور ہی کچھ ہے

کسی رئیس کی محفل کا ذکر ہی کیا ہے خدا کے گھر بھی نہ جائیں_گے بن بلائے ہوئے

اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں ڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں ڈال کے خاک میرے خون پہ قاتل نے کہا کچھ یہ مہندی نہیں میری کہ چھپا بھی نہ سکوں ضبط کمبخت نے یاں آ کے گلا گھونٹا ہے کہ اسے حال سناؤں تو سنا بھی نہ سکوں نقش_پا دیکھ تو لوں لاکھ کروں_گا سجدے سر مرا عرش نہیں ہے جو جھکا بھی نہ سکوں بے_وفا لکھتے ہیں وہ اپنے قلم سے مجھ کو یہ وہ قسمت کا لکھا ہے جو مٹا بھی نہ سکوں اس طرح سوئے ہیں سر رکھ کے مرے زانو پر اپنی سوئی ہوئی قسمت کو جگا بھی نہ سکوں

الفت میں برابر ہے وفا ہو کہ جفا ہو ہر بات میں لذت ہے اگر دل میں مزا ہو

گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔ قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا

ویڈیو 10

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر
Na shauq e wasal ka da_wa

محمد رفیع

اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں

متفرق

اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہو

نامعلوم

جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے

اعجاز حسین ہزراوی

سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ

جگجیت سنگھ

آڈیو 7

جب سے باندھا ہے تصور اس رخ_پر_نور کا

ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری

اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ شعرا

  • محسن کاکوروی محسن کاکوروی شاگرد
  • دل شاہجہاں پوری دل شاہجہاں پوری شاگرد
  • میر مہدی مجروح میر مہدی مجروح ہم عصر
  • وسیم خیر آبادی وسیم خیر آبادی شاگرد
  • جلیل مانک پوری جلیل مانک پوری شاگرد
  • ریاضؔ خیرآبادی ریاضؔ خیرآبادی شاگرد
  • داغؔ دہلوی داغؔ دہلوی ہم عصر
  • حفیظ جونپوری حفیظ جونپوری شاگرد
  • مظفر علی اسیر مظفر علی اسیر استاد
  • مضطر خیرآبادی مضطر خیرآبادی شاگرد

"حیدر آباد" کے مزید شعرا

  • مہراج سرکشن پرشاد شاد مہراج سرکشن پرشاد شاد
  • جلیل مانک پوری جلیل مانک پوری
  • ماہ لقا چندا ماہ لقا چندا
  • مخدومؔ محی الدین مخدومؔ محی الدین
  • شاذ تمکنت شاذ تمکنت
  • ولی عزلت ولی عزلت
  • شیر محمد خاں ایمان شیر محمد خاں ایمان
  • یوسف اعظمی یوسف اعظمی
  • صفی اورنگ آبادی صفی اورنگ آبادی
  • اختر علی اختر اختر علی اختر