Ameer Minai's Photo'

امیر مینائی

1829 - 1900 | حیدر آباد, انڈیا

داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں

داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں

امیر مینائی

غزل 43

اشعار 122

کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیں

ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے

  • شیئر کیجیے

تم کو آتا ہے پیار پر غصہ

مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے

  • شیئر کیجیے

وصل کا دن اور اتنا مختصر

دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔ

قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا

  • شیئر کیجیے

الفت میں برابر ہے وفا ہو کہ جفا ہو

ہر بات میں لذت ہے اگر دل میں مزا ہو

  • شیئر کیجیے

کتاب 71

تصویری شاعری 21

ویڈیو 10

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر

پنکج اداس

بیگم اختر

Na shauq e wasal ka da_wa

محمد رفیع

اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں

امیر مینائی

اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں

متفرق

اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہو

نامعلوم

جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے

اعجاز حسین حضروی

سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ

جگجیت سنگھ

سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ

مہران امروہی

سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ

جازم شرما

آڈیو 7

جب سے باندھا ہے تصور اس رخ_پر_نور کا

ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری

اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ بلاگ

 

متعلقہ شعرا

"حیدر آباد" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI