Ameer Minai's Photo'

امیر مینائی

1829 - 1900 | حیدر آباد, ہندوستان

داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں

داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں

42.5K
Favorite

باعتبار

کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیں

ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے

تم کو آتا ہے پیار پر غصہ

مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے

وصل کا دن اور اتنا مختصر

دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

الفت میں برابر ہے وفا ہو کہ جفا ہو

ہر بات میں لذت ہے اگر دل میں مزا ہو

گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔ

قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

آفت تو ہے وہ ناز بھی انداز بھی لیکن

مرتا ہوں میں جس پر وہ ادا اور ہی کچھ ہے

کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیں

شوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر

where in this world does ones beloved's beauty not reside

if the zeal for sight you have, the vision too provide

تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر

سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر

ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری

کیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میری

ابھی آئے ابھی جاتے ہو جلدی کیا ہے دم لے لو

نہ چھیڑوں گا میں جیسی چاہے تم مجھ سے قسم لے لو

مانگ لوں تجھ سے تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے

سو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے

آنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحب

وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

show me not your anger dear show me your youthful prime

the wealth that you have covered up is truly sublime

امیرؔ اب ہچکیاں آنے لگی ہیں

کہیں میں یاد فرمایا گیا ہوں

فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا

کبھی تکیہ ادھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا

جو چاہئے سو مانگیے اللہ سے امیرؔ

اس در پہ آبرو نہیں جاتی سوال سے

کسی رئیس کی محفل کا ذکر ہی کیا ہے

خدا کے گھر بھی نہ جائیں گے بن بلائے ہوئے

ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں

تمہارے دیکھنے والوں میں یار ہم بھی ہیں

جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ

حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ

as she came of age she started to be veiled from me

shyness came to her at once, beauty then slowly

کون اٹھائے گا تمہاری یہ جفا میرے بعد

یاد آئے گی بہت میری وفا میرے بعد

after I am gone, your torture who will bear

you'll miss my devotion, when I am not there

اللہ رے سادگی نہیں اتنی انہیں خبر

میت پہ آ کے پوچھتے ہیں ان کو کیا ہوا

پھر بیٹھے بیٹھے وعدۂ وصل اس نے کر لیا

پھر اٹھ کھڑا ہوا وہی روگ انتظار کا

وہ دشمنی سے دیکھتے ہیں دیکھتے تو ہیں

میں شاد ہوں کہ ہوں تو کسی کی نگاہ میں

مانی ہیں میں نے سیکڑوں باتیں تمام عمر

آج آپ ایک بات میری مان جائیے

All my life I have agreed to everything you say

merely one request of mine please accept today

تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے

سینہ کس کا ہے مری جان جگر کس کا ہے

سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ

نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ

the veil slips from her visage at such a gentle pace

as though the sun emerges from a cloud's embrace

بوسہ لیا جو اس لب شیریں کا مر گئے

دی جان ہم نے چشمۂ آب حیات پر

بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میری

میری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری

even after death my love did not forsake

at my grave my desires kept a steady wake

مشکل بہت پڑے گی برابر کی چوٹ ہے

آئینہ دیکھئے گا ذرا دیکھ بھال کے

آہوں سے سوز عشق مٹایا نہ جائے گا

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

خدا نے نیک صورت دی تو سیکھو نیک باتیں بھی

برے ہوتے ہو اچھے ہو کے یہ کیا بد زبانی ہے

شاعر کو مست کرتی ہے تعریف شعر امیرؔ

سو بوتلوں کا نشہ ہے اس واہ واہ میں

آیا نہ ایک بار عیادت کو تو مسیح

سو بار میں فریب سے بیمار ہو چکا

مرا خط اس نے پڑھا پڑھ کے نامہ بر سے کہا

یہی جواب ہے اس کا کوئی جواب نہیں

ساری دنیا کے ہیں وہ میرے سوا

میں نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے

اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں

ڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں

The one that I desire, this heart cannot displace

The one who is unattainable I seek to embrace

سمجھتا ہوں سبب کافر ترے آنسو نکلنے کا

دھواں لگتا ہے آنکھوں میں کسی کے دل کے جلنے کا

شب فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو

کبھی فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ

I haven't slept since parting eve, O Angels, I request

I'll settle your accounts at leisure for now let me rest

یہ بھی اک بات ہے عداوت کی

روزہ رکھا جو ہم نے دعوت کی

کس ڈھٹائی سے وہ دل چھین کے کہتے ہیں امیرؔ

وہ مرا گھر ہے رہے جس میں محبت میری

stubbornly she snatches at my heart and says

this is my house as it is where my affection stays

ہے جوانی خود جوانی کا سنگار

سادگی گہنہ ہے اس سن کے لیے

youthfullness is itself an ornament forsooth

innocence is the only jewel needed in ones youth

تیری مسجد میں واعظ خاص ہیں اوقات رحمت کے

ہمارے مے کدے میں رات دن رحمت برستی ہے

ضبط دیکھو ادھر نگاہ نہ کی

مر گئے مرتے مرتے آہ نہ کی

لطف آنے لگا جفاؤں میں

وہ کہیں مہرباں نہ ہو جائے

I've started to enjoy her tortures by and by

I hope she doesn't now decide to

پہلو میں میرے دل کو نہ اے درد کر تلاش

مدت ہوئی غریب وطن سے نکل گیا

اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے

ہم مرے جاتے ہیں تم کہتے ہو حال اچھا ہے

کرتا میں دردمند طبیبوں سے کیا رجوع

جس نے دیا تھا درد بڑا وہ حکیم تھا

for my pain how could I seek, from doctors remedy

the one who caused this ache, a healer great was he

ان شوخ حسینوں پہ جو مائل نہیں ہوتا

کچھ اور بلا ہوتی ہے وہ دل نہیں ہوتا

قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر

جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا