Ameer Minai's Photo'

امیر مینائی

1829 - 1900

داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں

داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں

آئے بت خانے سے کعبے کو تو کیا بھر پایا

جا پڑے تھے تو وہیں ہم کو پڑا رہنا تھا

آنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحب

وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

show me not your anger dear show me your youthful prime

the wealth that you have covered up is truly sublime

show me not your anger dear show me your youthful prime

the wealth that you have covered up is truly sublime

آبرو شرط ہے انساں کے لیے دنیا میں

نہ رہی آب جو باقی تو ہے گوہر پتھر

آفت تو ہے وہ ناز بھی انداز بھی لیکن

مرتا ہوں میں جس پر وہ ادا اور ہی کچھ ہے

آہوں سے سوز عشق مٹایا نہ جائے گا

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

عاشق کا بانکپن نہ گیا بعد مرگ بھی

تختے پہ غسل کے جو لٹایا اکڑ گیا

آیا نہ ایک بار عیادت کو تو مسیح

سو بار میں فریب سے بیمار ہو چکا

ابھی آئے ابھی جاتے ہو جلدی کیا ہے دم لے لو

نہ چھیڑوں گا میں جیسی چاہے تم مجھ سے قسم لے لو

ابھی کمسن ہیں ضدیں بھی ہیں نرالی ان کی

اس پہ مچلے ہیں کہ ہم درد جگر دیکھیں گے

اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے

ہم مرے جاتے ہیں تم کہتے ہو حال اچھا ہے

اللہ رے سادگی نہیں اتنی انہیں خبر

میت پہ آ کے پوچھتے ہیں ان کو کیا ہوا

اللہ رے اس گل کی کلائی کی نزاکت

بل کھا گئی جب بوجھ پڑا رنگ حنا کا

اللہ ری نزاکت جاناں کہ شعر میں

مضموں بندھا کمر کا تو درد کمر ہوا

امیرؔ اب ہچکیاں آنے لگی ہیں

کہیں میں یاد فرمایا گیا ہوں

اپنی محفل سے عبث ہم کو اٹھاتے ہیں حضور

چپکے بیٹھے ہیں الگ آپ کا کیا لیتے ہیں

بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میری

میری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری

even after death my love did not forsake

at my grave my desires kept a steady wake

even after death my love did not forsake

at my grave my desires kept a steady wake

باغباں کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی

بھیجنی ہیں ایک کم سن کے لیے

باقی نہ دل میں کوئی بھی یا رب ہوس رہے

چودہ برس کے سن میں وہ لاکھوں برس رہے

O lord no other lust may this heart contain

at this tender age may forever she remain

O lord no other lust may this heart contain

at this tender age may forever she remain

باتیں ناصح کی سنیں یار کے نظارے کیے

آنکھیں جنت میں رہیں کان جہنم میں رہے

برہمن دیر سے کعبے سے پھر آئے حاجی

تیرے در سے نہ سرکنا تھا نہ سرکے عاشق

بوسہ لیا جو اس لب شیریں کا مر گئے

دی جان ہم نے چشمۂ آب حیات پر

چھیڑ دیکھو مری میت پہ جو آئے تو کہا

تم وفاداروں میں ہو یا میں وفاداروں میں ہوں

دیکھ لے بلبل و پروانہ کی بیتابی کو

ہجر اچھا نہ حسینوں کا وصال اچھا ہے

فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا

کبھی تکیہ ادھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا

فرقت میں منہ لپیٹے میں اس طرح پڑا ہوں

جس طرح کوئی مردہ لپٹا ہوا کفن میں

گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔ

قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا

گرد اڑی عاشق کی تربت سے تو جھنجھلا کر کہا

واہ سر چڑھنے لگی پاؤں کی ٹھکرائی ہوئی

گرہ سے کچھ نہیں جاتا ہے پی بھی لے زاہد

ملے جو مفت تو قاضی کو بھی حرام نہیں

ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری

کیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میری

seeing my condition, she laughs and asks of me

"Easy did you then imagine, loving me would be?"

seeing my condition, she laughs and asks of me

"Easy did you then imagine, loving me would be?"

ہاتھ رکھ کر میرے سینے پہ جگر تھام لیا

تم نے اس وقت تو گرتا ہوا گھر تھام لیا

ہے جوانی خود جوانی کا سنگار

سادگی گہنہ ہے اس سن کے لیے

youthfullness is itself an ornament forsooth

innocence is the only jewel needed in ones youth

youthfullness is itself an ornament forsooth

innocence is the only jewel needed in ones youth

ہے وصیت کہ کفن مجھ کو اسی کا دینا

ہاتھ آ جائے جو اترا ہوا پیراہن دوست

ہم جو پہنچے تو لب گور سے آئی یہ صدا

آئیے آئیے حضرت بہت آزاد رہے

ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں

تمہارے دیکھنے والوں میں یار ہم بھی ہیں

ہلال و بدر دونوں میں امیرؔ ان کی تجلی ہے

یہ خاکہ ہے جوانی کا وہ نقشہ ہے لڑکپن کا

ہو گیا بند در میکدہ کیا قہر ہوا

شوق پا بوس حسیناں جو تجھے تھا اے دل

ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

ان شوخ حسینوں پہ جو مائل نہیں ہوتا

کچھ اور بلا ہوتی ہے وہ دل نہیں ہوتا

جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ

حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ

as she came of age she started to be veiled from me

shyness came to her at once, beauty then slowly

as she came of age she started to be veiled from me

shyness came to her at once, beauty then slowly

جس غنچہ لب کو چھیڑ دیا خندہ زن ہوا

جس گل پہ ہم نے رنگ جمایا چمن ہوا

جو چاہئے سو مانگیے اللہ سے امیرؔ

اس در پہ آبرو نہیں جاتی سوال سے

کعبہ بھی ہم گئے نہ گیا پر بتوں کا عشق

اس درد کی خدا کے بھی گھر میں دوا نہیں

کعبۂ رخ کی طرف پڑھنی ہے آنکھوں سے نماز

چاہئے گرد نظر بہر تیمم مجھ کو

کباب سیخ ہیں ہم کروٹیں ہر سو بدلتے ہیں

جل اٹھتا ہے جو یہ پہلو تو وہ پہلو بدلتے ہیں

کہتے ہو کہ ہم درد کسی کا نہیں سنتے

میں نے تو رقیبوں سے سنا اور ہی کچھ ہے

کرتا میں دردمند طبیبوں سے کیا رجوع

جس نے دیا تھا درد بڑا وہ حکیم تھا

for my pain how could I seek, from doctors remedy

the one who caused this ache, a healer great was he

for my pain how could I seek, from doctors remedy

the one who caused this ache, a healer great was he

کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیں

شوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر

where in this world does ones beloved's beauty not reside

if the zeal for sight you have, the vision too provide

where in this world does ones beloved's beauty not reside

if the zeal for sight you have, the vision too provide

کون اٹھائے گا تمہاری یہ جفا میرے بعد

یاد آئے گی بہت میری وفا میرے بعد

after I am gone, your torture who will bear

you'll miss my devotion, when I am not there

after I am gone, your torture who will bear

you'll miss my devotion, when I am not there

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

خدا نے نیک صورت دی تو سیکھو نیک باتیں بھی

برے ہوتے ہو اچھے ہو کے یہ کیا بد زبانی ہے

Added to your favorites

Removed from your favorites