تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے

امیر مینائی

تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے

امیر مینائی

MORE BY امیر مینائی

    تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے

    سینہ کس کا ہے مری جان جگر کس کا ہے

    خوف میزان قیامت نہیں مجھ کو اے دوست

    تو اگر ہے مرے پلے میں تو ڈر کس کا ہے

    کوئی آتا ہے عدم سے تو کوئی جاتا ہے

    سخت دونوں میں خدا جانے سفر کس کا ہے

    چھپ رہا ہے قفس تن میں جو ہر طائر دل

    آنکھ کھولے ہوئے شاہین نظر کس کا ہے

    نام شاعر نہ سہی شعر کا مضمون ہو خوب

    پھل سے مطلب ہمیں کیا کام شجر کس کا ہے

    صید کرنے سے جو ہے طائر دل کے منکر

    اے کماندار ترے تیر میں پر کس کا ہے

    میری حیرت کا شب وصل یہ باعث ہے امیرؔ

    سر بہ زانو ہوں کہ زانو پہ یہ سر کس کا ہے

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY