Ameer Minai's Photo'

امیر مینائی

1829 - 1900 | حیدر آباد, ہندوستان

داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں

داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

دبستان لکھنؤ کی خارجیت اور دبستان دہلی کی داخلیت کا حسین امتزاج پیش کرنے والے امیر مینای وہ قادر الکلام شاعر تھے جنہوں نے اپنے زمانہ میں اوراس  کے بعد بھی اپنی شاعری کا لوہا منوایا ۔امیر کے کلام میں زبردست تنوع اور رنگارنگی ہے جو ان کے دادا استاد مصحفی کی یاد دلاتی ہے۔امیر، مصحفی کے شاگرد، اسیر لکھنوی کے شاگرد تھے۔امیر کے مزاج میں مختلف،بلکہ متضاد میلانات کو ترکیب دینے کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔زہد و تقوی کے ساتھ وارستگی، معشوق سے دل لگی کے ساتھ عشق حقیقی اور سوز و گداز کے ساتھ کیف و انبساط کی ترنگوں کو انہوں نے انتہائی خوبی سے اپنی غزل میں سمویا۔ ان کی شاعری  میں اگر ایک طرف استادی نظر آتی ہے تو ساتھ ساتھ سچی شاعری کے  نمونے بھی ملتے ہیں۔امیر مینائی کی غزل مختلف رنگوں اور خوشبوؤں کے پھولوں کا اک حسیں گلدستہ ہے۔ہم ان کی شاعری کو  نیرنگِ  جمال سے تعبیر کر سکتے ہیں۔

امیر مینای کا نام امیر احمد تھا اور وہ نواب نصیر الدین حیدر کے عہد میں سن 1828 میں لکھھنو میں پیدا ہوے۔ان کے والد مولوی کرم احمد تھے اور دادا مشہور بزرگ مخدوم شاہ مینا کے حقیقی بھائی تھے۔اسی لئے وہ مینائی کہلائے۔ امیر مینائی نے شروع میں اپنے بڑے بھای حافظ عنایت حسین اور اپنے والد سے تعلیم پائی اور اس کے بعد مفتی سعد اللہ مرادابادی سے فارسی عربی اور ادب میں مہارت حاصل کی۔انہوں نے علمائے فرنگی محل سے بھی فقہ و اصول کی کی تعلیم حاصل کی لیکن ان کا اپنا کہنا ہے کہ علوم متداولہ کی تکمیل ان کی اپنی کوششوں کا نتیجہ تھی۔ ان کو شاعری کا شوق بچپن سے تھا پندرہ سال کی عمر میں  منشی مظفر علی اسیر کے شاگرد ہو گئے جو اپنے زمانہ کے مشہور شاعر اور ماہرعروض تھے۔اس زمانہ میں لکھنو میں شاعری کا چرچا عام تھا۔ آتش و ناسخ اور اس کے بعد انیس و دبیر کی معرکہ آرائیوں نے شاعری کے ماحول کو گرم کر رکھا تھا۔ رند،خلیل، صبا،نسیم، بحر اور رشک وغیرہ کی زمزمہ سنجیاں  سن کر امیر کا شوق شاعری چمک اٹھا اور وہ جلد ہی لکھنؤ  اور اس کے باہر مشہور ہو گئے۔ امیر کے کلام اور ان کے کمال کی تعریفیں سن  کر1852 میں نواب واجد علی شاہ نے ان کو طلب کیا اور 200 روپے ماہانہ پر اہنے شہزادوں کی تعلیم کا کام ان کے سپرد کر دیا۔ لیکن 1956 میں انگریزوں نے اودھ پر قبضہ کر لیا تو یہ نوکری جاتی رہی اور امیر گوشہ نشین ہو گئے۔ پھر اگلے ہی سال غدر کا ہنگامہ پرپا ہوا جس میں ان کا گھر  تباہ ہو گیا، اور ساتھ ہی ان  کا پہلا مجموعہ بھی ضائع ہو گیا۔ تب امیر کاکوری چلے گئے اور وہاں ایک سال قیام کرنے کے بعد کانپور ہوتے ہوئے میر پور پہنچے جہاں ان کے خسر شیخ وحید الدین ڈپٹی کلکٹر تھے ۔ ان  کی سفارش پر نواب رامپور یوسف علی خاں ناظم نے ان کو طلب کیا  اورعدالت دیوانی کے رکن اور مفتی شرع کی حیثیت سے ان کا تقرر کر دیا۔ اس کے بعد 1865 میں،جب نواب کلب علی خاں مسند  نشین ہوے تو  مطبع،خبر رسانی ار مصاحبت کے فرایض بھی ان کے ذمّہ ہو گئے۔ نواب نے 216 روپیہ ان کا وظیفہ مقرر کیا۔ انعامات اور دوسری سہولیات اس کے علاوہ تھیں۔

کلب علی خان کے عہد میں اکثر فنوں کے با کمال رامپور میں جمع تھے۔شاعروں میں داغ،بحر،جلال قلق ،اسیر منیر،تسلیم اوج  جیسے سخنور وہاں موجود تھے۔اس ماحول میں امیر کی شاعری اپنے نقطۂ عروج پر پہنچ گئی۔کلب علی خان کے بعد مشتاق علی خاں اور حامد علی خاں نے ان کی ملازمت کو برقرار رکھا لیکن تنخواہ اور دیگر سہولیات میں بہت کمی ہو گئی۔جب داغ نے رامپور سے حیدر آباد جا کر وہاں عروج پایا تو  ان کی ترغیب پر امیر نے بھی حیر اباد جانے کا ارادہ کیا۔1899 میں جب نظام کلکتہ سے دکن واپس جا رہے تھے تو داغ کی تحریک سے ان کی ملاقات  نظام سے ہوی اور ان کا مدحیہ قصیدہ سن کر نظام بہت خوش ہوےاور ان کو حیدر آباد آنے کی دعوت دی۔1900 میں امیر بھوپال ہوتے ہوے حیدرآباد پہنچے لیکن جاتے ہی ایسے بیمار ہوئے کہ پھر نہ اٹھ سکے۔اور وہیں ان کا انتقال ہو گیا۔ 

امیر  مینای طبعاً شریف النفس، پاکباز،عبادت گزار اور متّقی تھے۔درگاہ صابریہ کے سجّادہ نشین  امیر شاہ صاحب سے بیعت و خلافت کا شرف حاصل تھا۔مزاج میں توکل،فقیری اور استغناء تھاجس نے تواضع ار انکسار کی صفات کو چمکا دیا تھا۔اس کے ساتھ ہی بیباکی اور خود داری،دوست نوازی، شفقت اور عیب پوشی میں بیمثال تھےمعاصر شعراء با لخصوص داغ سے دوستانہ مراسم تھے لیکن کسی قدر چشمک اور رقابت موجوود تھی۔
شعرائے متاخرین، میں امیر مینائی اک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ قصیدہ گوئی میں ان کی قدرت کلام مسلّم ہے  جبکہ غزل میں ان کے کلام کا عام جوہر زبان کی سلاست، مضمون کی نزاکت اور شگفتہ بیانی ہے جس میں لکھنؤ کی مناسبت سے لوازم حسن کی رنگینی اور  نسوانی خصوصیات کی جھلک موجود ہے۔ کلام سراسر ہموار ہے جس  میں موزونیت، نازک خیالی، پختگی،مضموں آفرینی،تمثیل نگاری اور تصوف نے اک رنگا رنگ چمن کھلا دیا ہےمصحفی کی طرح زبان و عروض کے قواعد سے زرا نھیں ہٹتے اور مشّاقی کے زور میں دو غزلے اور سہ غزلے کہتے ہیں۔ ان کے بارے میں حکیم عبد الحئی کہتے ہیں۔۔"وہ مسلم الثبوت استاد تھے،کلام کا زور مضمون کی نزاکت سے دست و گریباں ہے،بندش کی چستی اور تراکیب کی درستی سے لفظوں کی خوبصوورتی پہلو بہ پہلو جوڑتے ہیں۔نازک خیالات اور بلند مضامین اس طرح پر باندھتے ہیں باریک نقّاشی پر فصاحت آئینہ کا کام دیتی ہے (گل رعنا)۔رام بابو سکسینہ کی رائے بھی قریب قریب یہی ہے۔ امیر کی غزل میں داغ کی سی برجستگی،شوخی اور صفائی نہیں لیکن پختگی، زبان دانی ، موزونی الفاظ اور رنگینیء مضامین کے اعتبار سے ان کی غزل اک گلدستہ ہوتی ہے۔ اپنے ہمعصر داغ  کے مقابلہ میں ان کی شخصیت زیادہ پیچیدہ اور دائرہ عمل زیادہ وسیع ہےانہوں نے شاعری  کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی۔ ان کے بہت سے شعر زباں زد خاص و عام ہیں۔ شاعری سے دلچسپی رکھنے والا شاید ہی کوئی شخص ہو گا جس نے ان کا یہ شعر۔۔" خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر*سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے" نہ سنا ہوگا۔

شاعری سے ہٹ کر امیر مینائی کو تحقیق کی زبان سے خاص دلچسپی تھی ۔ انہون نے اردومیں غلط رائج عربی اور فارسی الفاظ کی نشاندہی کی اور ان کو 300 صفحات کی اک کتاب میں جمع کیا۔ اس کتاب کا نام" سرمہء بصیرت" ہے۔ان کی کتاب "بہار ہند" اردو کے محاورات اور مصطلحات پر مشتمل ہے  جن کی سند اشعار کے ذریعہ پیش کی گئی ہے اور جسے امیر اللغات کا نقش اوّل کہا جا سکتا ہے۔امیر اللغات ان کی نا مکمل لغت جس کی صرف دو جلدیں  شائع ہو سکیں۔ 

شاعری میں امیر مینائی نے متعدد دیوان بشمول "غیرت بہار"، "مراۃ الغیب"،"گوہر انتخاب" اور "صنم خانہء عشق"مرتب کئے۔آخر الذکر کو وہ اپنے سبھی مجموعوں سے بہتر خیال کرتے تھے۔مذہب اور اخلاق میں "ؐمحامد خاتم النبیین" میں ان کا نعتیہ کلام ہے۔انہوں نے چار مسدس۔ذکر شہ انبیاء،صبح ازل، شام ابد اور لیلتہ القدر کے عنوان سے لکھے۔ ۔نور تجلی اور ابر کرم ان کی دو مثنویاں اخلاق و معرفت کے موضوع پر ہیں۔ ان کے علاوہ نماز کے اسرار،زاد المعاد(دعائیں) اور خیابان آفرینش(نثر میں میلاد کی کتاب) ان کی یادگار ہیں۔