Ameer Minai's Photo'

امیر مینائی

1829 - 1900 | حیدر آباد, ہندوستان

داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں

داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں

امیر مینائی کی ٹاپ ٢٠ شاعری

وصل کا دن اور اتنا مختصر

دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔ

قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا

آفت تو ہے وہ ناز بھی انداز بھی لیکن

مرتا ہوں میں جس پر وہ ادا اور ہی کچھ ہے

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیں

شوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر

تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر

سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر

ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری

کیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میری

ابھی آئے ابھی جاتے ہو جلدی کیا ہے دم لے لو

نہ چھیڑوں گا میں جیسی چاہے تم مجھ سے قسم لے لو

آنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحب

وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

اس شعر میں غضب کا چونچال ہے۔ یہی چونچال اردو غزل کی روایت کا خاصہ ہے۔ آنکھیں دکھانا ذو معنی ہے۔ ایک معنی تو یہ ہے کہ صرف آنکھیں دکھاتے ہو یعنی محض آنکھوں کا نظارہ کراتے ہو۔ دوسرا معنی یہ کہ صرف غصہ کرتے ہو کیونکہ آنکھیں دکھانا محاورہ ہے اور اس کے کئی معنی ہیں جیسے گھور کر دیکھنا، ناراضگی کی نظر سے دیکھنا، گھرکی دینا، اشارہ و کنایہ کرنا، آنکھوں ہی آنکھوں میں باتیں کرنا۔ مگر شعر میں جو طنزیہ پیرایہ دکھائی دیتا ہے اس کی مناسبت سے آنکھیں دکھانے کو گھرکی دینے یعنی غصے سے دیکھنے سے ہی تعبیر کیا جانا چاہیے۔

جوبن کے کئی معنی ہیں جیسے حسن و جمال، چڑھتی جوانی، عورت کا سینہ یعنی پستان۔ جب یہ کہا کہ وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے تو مراد سینے سے ہی ہے کیونکہ جب آنکھ دکھائی تو ظاہر ہے کہ چہرہ بھی دکھایا اور جب آمنے سامنے کھڑے ہوگئے تو گویا چڑھتی جوانی کا نظارہ بھی ہوا۔ اگر کوئی چیز جو شاعر کی دانست میں اچھامال ہے اور جسے باندھ کے رکھا گیا ہے تو وہ محبوب کا سینہ ہی ہوسکتا ہے۔

اس شعر میں غضب کا چونچال ہے۔ یہی چونچال اردو غزل کی روایت کا خاصہ ہے۔ آنکھیں دکھانا ذو معنی ہے۔ ایک معنی تو یہ ہے کہ صرف آنکھیں دکھاتے ہو یعنی محض آنکھوں کا نظارہ کراتے ہو۔ دوسرا معنی یہ کہ صرف غصہ کرتے ہو کیونکہ آنکھیں دکھانا محاورہ ہے اور اس کے کئی معنی ہیں جیسے گھور کر دیکھنا، ناراضگی کی نظر سے دیکھنا، گھرکی دینا، اشارہ و کنایہ کرنا، آنکھوں ہی آنکھوں میں باتیں کرنا۔ مگر شعر میں جو طنزیہ پیرایہ دکھائی دیتا ہے اس کی مناسبت سے آنکھیں دکھانے کو گھرکی دینے یعنی غصے سے دیکھنے سے ہی تعبیر کیا جانا چاہیے۔

جوبن کے کئی معنی ہیں جیسے حسن و جمال، چڑھتی جوانی، عورت کا سینہ یعنی پستان۔ جب یہ کہا کہ وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے تو مراد سینے سے ہی ہے کیونکہ جب آنکھ دکھائی تو ظاہر ہے کہ چہرہ بھی دکھایا اور جب آمنے سامنے کھڑے ہوگئے تو گویا چڑھتی جوانی کا نظارہ بھی ہوا۔ اگر کوئی چیز جو شاعر کی دانست میں اچھامال ہے اور جسے باندھ کے رکھا گیا ہے تو وہ محبوب کا سینہ ہی ہوسکتا ہے۔

فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا

کبھی تکیہ ادھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا

جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ

حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ

مانی ہیں میں نے سیکڑوں باتیں تمام عمر

آج آپ ایک بات میری مان جائیے

تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے

سینہ کس کا ہے مری جان جگر کس کا ہے

باقی نہ دل میں کوئی بھی یا رب ہوس رہے

چودہ برس کے سن میں وہ لاکھوں برس رہے

شب فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو

کبھی فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ

وصل ہو جائے یہیں حشر میں کیا رکھا ہے

آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے

تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے

سو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے

پتلیاں تک بھی تو پھر جاتی ہیں دیکھو دم نزع

وقت پڑتا ہے تو سب آنکھ چرا جاتے ہیں

باغباں کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی

بھیجنی ہیں ایک کم سن کے لیے

شب وصال بہت کم ہے آسماں سے کہو

کہ جوڑ دے کوئی ٹکڑا شب جدائی کا

شبِ وصال کی مناسبت سے شبِ جدائی نے بہت ہی دلچسپ تضاد پیدا کیا ہے اور دراصل اس شعر کے مضمون کی بنیاد ہی اسی تضاد پر ہے۔ شبِ وصال کے مختصر ہونے کا شکوہ اردو غزل کی روایت میں شامل ہے۔ اسی طرح سے شاعروں نے شبِ جدائی یا شبِ فراق کے طویل ہونے کا شکوہ بھی کیا ہے۔ اس شعر میں شبِ وصال یعنی ملاقات ، شبِ فراق کی مناسبت سے ’بہت کم‘، ’جوڑ دے کوئی ٹکڑا‘ اور آسمان کے تلازمات نے حسن پیدا کیا ہے۔آسمان کو اردو شعرا نے بہت سی چیزوں کا استعارہ یا علامت بنا کر استعمال کیا ہے۔ مثلاً آسمان کو تقدیر، خدا اور وقت وغیرہ کے استعاروں کے بطور استعمال کیا گیا ہے۔ اس شعر میں آسمان دراصل استعارہ ہے وقت کا۔

شاعر مخاطب سے کہتا ہے کہ محبوب سے ملاقات کی رات طوالت کے اعتبار سے بہت کم ہے۔ یعنی جس رات محبوب سے وصل ہوتا ہے وہ چند لمحوں میں گزرجاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں شبِ جدائی یعنی محبوب سے جدائی کی رات بہت طویل ہوتی ہے۔ یعنی جب محبوب دور ہو تو رات کسی طور کٹتی نہیں۔ اس لئے اے مخاطب! تم وقت سے کہو کہ وہ جدائی کی رات سے کوئی حصہ کاٹ کے وصل کی رات میں ملادے۔ تاکہ عاشق اپنے محبوب کی قربت سے پوری طرح محظوظ ہو۔

شبِ وصال کی مناسبت سے شبِ جدائی نے بہت ہی دلچسپ تضاد پیدا کیا ہے اور دراصل اس شعر کے مضمون کی بنیاد ہی اسی تضاد پر ہے۔ شبِ وصال کے مختصر ہونے کا شکوہ اردو غزل کی روایت میں شامل ہے۔ اسی طرح سے شاعروں نے شبِ جدائی یا شبِ فراق کے طویل ہونے کا شکوہ بھی کیا ہے۔ اس شعر میں شبِ وصال یعنی ملاقات ، شبِ فراق کی مناسبت سے ’بہت کم‘، ’جوڑ دے کوئی ٹکڑا‘ اور آسمان کے تلازمات نے حسن پیدا کیا ہے۔آسمان کو اردو شعرا نے بہت سی چیزوں کا استعارہ یا علامت بنا کر استعمال کیا ہے۔ مثلاً آسمان کو تقدیر، خدا اور وقت وغیرہ کے استعاروں کے بطور استعمال کیا گیا ہے۔ اس شعر میں آسمان دراصل استعارہ ہے وقت کا۔

شاعر مخاطب سے کہتا ہے کہ محبوب سے ملاقات کی رات طوالت کے اعتبار سے بہت کم ہے۔ یعنی جس رات محبوب سے وصل ہوتا ہے وہ چند لمحوں میں گزرجاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں شبِ جدائی یعنی محبوب سے جدائی کی رات بہت طویل ہوتی ہے۔ یعنی جب محبوب دور ہو تو رات کسی طور کٹتی نہیں۔ اس لئے اے مخاطب! تم وقت سے کہو کہ وہ جدائی کی رات سے کوئی حصہ کاٹ کے وصل کی رات میں ملادے۔ تاکہ عاشق اپنے محبوب کی قربت سے پوری طرح محظوظ ہو۔