اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے

امیر مینائی

اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے

امیر مینائی

MORE BY امیر مینائی

    اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے

    ہم مرے جاتے ہیں تم کہتے ہو حال اچھا ہے

    تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے

    سو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے

    دیکھ لے بلبل و پروانہ کی بیتابی کو

    ہجر اچھا نہ حسینوں کا وصال اچھا ہے

    آ گیا اس کا تصور تو پکارا یہ شوق

    دل میں جم جائے الٰہی یہ خیال اچھا ہے

    آنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحب

    وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

    برق اگر گرمئ رفتار میں اچھی ہے امیرؔ

    گرمی حسن میں وہ برق جمال اچھا ہے

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY