التجا کے موضوع پر شاعری

التجا کا تناظر محبوب سے وصال، اس سے ملاقات یا اس کی ایک جھلک پا لینے کی خواہش سے جڑا ہے ۔ شاعری میں موجود عاشق ہرلمحہ یہی التجا اور فریاد کرتا رہتا ہے لیکن وہ بتِ کافر سنے ہی کیوں ۔ شاعری کا یہ حصہ ایک عاشق کی آرزومندی کی لطیف ترین کیفیتوں کا دلچسپ اظہار ہے ۔

اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک

اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

فیض احمد فیض

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے

چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

فیض احمد فیض

کہیں وہ آ کے مٹا دیں نہ انتظار کا لطف

کہیں قبول نہ ہو جائے التجا میری

let her not come to me and this pleasure destroy

let not my prayers be answered, for waiting is a joy

let her not come to me and this pleasure destroy

let not my prayers be answered, for waiting is a joy

حسرتؔ جے پوری

آدھی سے زیادہ شب غم کاٹ چکا ہوں

اب بھی اگر آ جاؤ تو یہ رات بڑی ہے

ثاقب لکھنوی

آؤ مل جاؤ کہ یہ وقت نہ پاؤ گے کبھی

میں بھی ہمراہ زمانہ کے بدل جاؤں گا

داغؔ دہلوی

مانی ہیں میں نے سیکڑوں باتیں تمام عمر

آج آپ ایک بات میری مان جائیے

All my life I have agreed to everything you say

merely one request of mine please accept today

All my life I have agreed to everything you say

merely one request of mine please accept today

امیر مینائی

نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا

مجھے تو ہوش دے اتنا رہوں میں تجھ پہ دیوانا

بہادر شاہ ظفر

میرے گھر کے تمام دروازے

تم سے کرتے ہیں پیار آ جاؤ

انور شعور

اب تو مل جاؤ ہمیں تم کہ تمہاری خاطر

اتنی دور آ گئے دنیا سے کنارا کرتے

عبید اللہ علیم

ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا

تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق میں کمی نہ کرنا

داغؔ دہلوی

یہ التجا دعا یہ تمنا فضول ہے

سوکھی ندی کے پاس سمندر نہ جائے گا

حیات لکھنوی

عشق کو نغمۂ امید سنا دے آ کر

دل کی سوئی ہوئی قسمت کو جگا دے آ کر

اختر شیرانی

بہت دور تو کچھ نہیں گھر مرا

چلے آؤ اک دن ٹہلتے ہوئے

حفیظ جونپوری

قبول اس بارگہہ میں التجا کوئی نہیں ہوتی

الٰہی یا مجھی کو التجا کرنا نہیں آتا

چراغ حسن حسرت

عشق میں شکوہ کفر ہے اور ہر التجا حرام

توڑ دے کاسۂ مراد عشق گداگری نہیں

اثر رامپوری

اب تو آ جاؤ رسم دنیا کی

میں نے دیوار بھی گرا دی ہے

جاوید کمال رامپوری