مشہور مصرعے پر اشعار
ایسے اشعار بھی کثیر
تعداد میں ہیں جن کا ایک ہی مصرعہ اتنا مشہور ہوا کہ زیادہ تر لوگ دوسرے مصرعے سے واقف ہی نہیں ہوتے ۔ ’’پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘‘ یہ مصرعہ سب کو یاد ہوگا لیکن مکمل شعر کم لوگ جانتے ہیں ۔ ہم نے ایسے مصرعوں کو مکمل شعر کی صورت میں جمع کیا ہے ۔ ہمیں امید ہے ہمارا یہ انتخاب آپ کو پسند آئے گا ۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
-
موضوعات : ترغیبیاور 5 مزید
عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
عشق نے غالب کو کسی کام کا نہیں چھوڑا، بالکل ناکارہ بنا دیا ہے۔
ورنہ اس سے پہلے ہم بھی ایک باصلاحیت اور کارآمد انسان تھے۔
اس شعر میں شاعر عشق کی تباہ کاریوں کا ذکر ہلکے پھلکے انداز میں کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محبت کی دیوانگی نے اسے دنیا کے کام دھندوں سے بیگانہ کر دیا ہے، ورنہ وہ بھی ایک زمانے میں بڑی خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔
-
موضوعات : عشقاور 3 مزید
سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں
زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
-
موضوعات : پارلیمنٹاور 5 مزید
بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ
کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے
غالبؔ، میری بے خودی یونہی بلا وجہ نہیں ہے۔
ضرور کچھ بات ہے جسے پردے میں رکھا جا رہا ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ اس کی کیفیتِ بے خودی محض اتفاق نہیں بلکہ کسی سبب کا نتیجہ ہے۔ “پردہ داری” سے مراد وہ راز، دکھ یا حقیقت ہے جسے زبان پر لانا ممکن نہیں، اس لیے اسے چھپایا جاتا ہے۔ یوں الجھن اور بے خودی خود اس چھپی ہوئی بات کی گواہی بن جاتی ہے۔ یہ شعر باطن کی تڑپ اور پوشیدہ درد کا اظہار ہے۔
-
موضوعات : بے خودیاور 2 مزید
مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملے جس کو سبق یاد رہے
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
راہ دور عشق میں روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
عشق کے لمبے سفر میں اتنا رو رہے ہو تو کیوں؟
آگے بڑھتے جاؤ، پھر دیکھو آگے کیا کیا ہوتا ہے۔
میر تقی میر عشق کو ایک طویل اور کٹھن راہ کی طرح دکھاتے ہیں جہاں ابتدا ہی میں رونا کم ہمتی ہے۔ متکلم صبر اور حوصلے کی تلقین کرتا ہے اور اشارہ دیتا ہے کہ آگے اور امتحان باقی ہیں۔ اس میں دلاسہ بھی ہے اور ہلکی سی چوٹ بھی کہ عشق کی قیمت وقت کے ساتھ کھلتی ہے۔
-
موضوعات : فلمی اشعاراور 1 مزید
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
-
موضوعات : فلمی اشعاراور 2 مزید
سرخ رو ہوتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعد
رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ پس جانے کے بعد
-
موضوعات : فلمی اشعاراور 1 مزید
عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں مومنؔ
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے
مومنؔ کہتا ہے میری پوری عمر بتوں کی محبت اور خواہش میں گزر گئی۔
پھر آخری گھڑی میں میں کیا واقعی مسلمان کہلاؤں گا؟
یہ شعر اپنی زندگی پر سخت خود ملامتی اور انجام کے خوف کا اعتراف ہے۔ “عشقِ بتاں” سے مراد وہ دلبستگیاں ہیں جو انسان کو ایمان سے ہٹا دیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ساری عمر غلط سمت میں گزری تو موت کے وقت کی ظاہری نیکی کیا معنی رکھتی ہے۔ مرکزی کیفیت پچھتاوا اور اپنے آپ پر طنز ہے۔
-
موضوعات : ضرب المثلاور 1 مزید
اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ
پھر ملیں گے اگر خدا لایا
میرؔ کہتے ہیں: اب میں بت کدے سے رخصت ہو رہا ہوں۔
اگر خدا نے چاہا اور موقع بنایا تو پھر ملاقات ہو جائے گی۔
یہ شعر رخصت کی نرمی اور جدائی کی بے یقینی بیان کرتا ہے۔ عاشق محبوب کے آستانے کو “بت کدہ” کہہ کر اپنی عقیدت بھی دکھاتا ہے اور اپنی بے بسی بھی۔ “اگر خدا لایا” میں امید بھی ہے مگر ساتھ ہی یہ اعتراف کہ دوبارہ ملنا تقدیر اور مشیتِ الٰہی کے ہاتھ میں ہے۔
-
موضوعات : الوداعاور 2 مزید
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
-
موضوعات : مشہور اشعاراور 1 مزید
عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم
رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے
شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برق
وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے
سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
-
موضوعات : مشہور اشعاراور 1 مزید
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
میں تمہیں آئینہ کیوں نہ دوں تاکہ ایک ایسا منظر بنے جسے لوگ تماشا کہتے ہیں۔
کیونکہ میں ایسا شخص کہاں سے لاؤں جسے تمہارے جیسا (ہم پلہ) کہا جا سکے۔
مرزا غالب محبوب کے حسن کی یکتائی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہارا کوئی ثانی نہیں ہے۔ اگر تمہیں اپنے جیسا کوئی دیکھنا ہے تو اس کا واحد حل آئینہ ہے، کیونکہ تمہاری برابری صرف تمہارا عکس ہی کر سکتا ہے اور یہ منظر خود میں ایک تماشا ہے۔
-
موضوعات : آئینہاور 1 مزید
چل ساتھ کہ حسرت دل مرحوم سے نکلے
عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو
خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو
-
موضوعات : فلمی اشعاراور 1 مزید
بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیا
تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں
-
موضوعات : فلمی اشعاراور 1 مزید
خبر سن کر مرے مرنے کی وہ بولے رقیبوں سے
خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں
میرے مرنے کی خبر ملی تو وہ میرے رقیبوں سے کہنے لگی۔
وہ بولی: اللہ اسے معاف کرے، مرنے والے میں بہت سی خوبیاں تھیں۔
اس شعر میں حسرت اور طنز ساتھ چلتے ہیں: محبوب زندگی میں قدر نہیں کرتی، مگر مرنے کے بعد تعریفی جملہ کہہ دیتی ہے، وہ بھی رقیبوں کے سامنے۔ یہ تعریف تعزیت کی رسمی زبان میں ہے، مگر عاشق کے لیے چبھتی ہے کیونکہ اب اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ مرکزی جذبہ یہ ہے کہ قدر شناسی بہت دیر سے اور بہت بے اثر ہو کر آتی ہے۔
-
موضوعات : فلمی اشعاراور 1 مزید
اے صنم وصل کی تدبیروں سے کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے
-
موضوعات : فلمی اشعاراور 1 مزید
آخر گل اپنی صرف در مے کدہ ہوئی
پہنچے وہاں ہی خاک جہاں کا خمیر ہو
نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی
بہت دیر کی مہرباں آتے آتے
مجھے یہ خبر نہ تھی کہ کوئی اچانک دنیا سے رخصت بھی ہو جاتا ہے۔
اے مہربان، تم آتے آتے بہت دیر کر گئے، وقت ہاتھ سے نکل گیا۔
یہ شعر جدائی کے لمحے کی حسرت اور ندامت بیان کرتا ہے۔ شاعر کو گمان نہ تھا کہ زندگی اتنی بے وفا ہے کہ کوئی پل بھر میں دنیا سے چلا جائے۔ محبوب/عزیز کی مہربانی بھی دیر سے پہنچی، اس لیے محبت تسلی دینے کے بجائے دکھ بڑھا دیتی ہے۔
-
موضوع : مشہور اشعار
میرؔ عمداً بھی کوئی مرتا ہے
جان ہے تو جہان ہے پیارے
میرؔ کہتا ہے: کیا کوئی جان بوجھ کر بھی مرنے کا فیصلہ کرتا ہے؟
پیارے، اگر جان سلامت ہے تو سارا جہان ابھی باقی ہے۔
اس شعر میں مایوسی کے مقابلے میں شفقت بھرا مشورہ ہے کہ عمداً مر جانا کوئی سمجھ کی بات نہیں، کیونکہ اصل سرمایہ “جان” ہے۔ “جان ہے تو جہان ہے” میں جان کو بنیاد اور جہان کو اس کے نتیجے کے طور پر رکھا گیا ہے۔ لہجہ پیار اور تسلی کا ہے: زندہ رہو گے تو امکانات، رشتے اور معنی سب پھر مل سکتے ہیں۔
اے ذوقؔ دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
اے ذوقؔ! خبردار رہ اور شراب (انگور کی بیٹی) کو اپنے منہ مت لگا۔
یہ ظالم چیز اگر ایک بار منہ کو لگ جائے تو پھر آسانی سے چھوٹتی نہیں ہے۔
اس شعر میں شاعر نے شراب نوشی کی بری عادت اور اس کی مضبوط گرفت سے خبردار کیا ہے۔ 'دخترِ رز' کو ایک 'کافر' یا ظالم محبوبہ کہا گیا ہے جو اگر ایک بار انسان کے منہ لگ جائے تو پھر جان نہیں چھوڑتی۔ یہ دراصل نشے کی لت کے بارے میں ہے کہ اس سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا
-
موضوع : مشہور اشعار
اگر بخشے زہے قسمت نہ بخشے تو شکایت کیا
سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے
-
موضوع : مشہور اشعار
حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے
اور ہوں گے تری محفل سے ابھرنے والے
حضرتِ داغ جہاں بیٹھے، وہاں پھر اسی طرح جم کر بیٹھ گئے۔
اب بھی تیری محفل سے اور لوگ اُبھر کر نام کمائیں گے۔
شعر میں داغؔ اپنی برتری اور وقار کا دعویٰ کرتے ہیں کہ جہاں بیٹھ گئے وہاں گویا فیصلہ ہو گیا۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ محبوب کی محفل ایسی ہے کہ اس سے نئے لوگ بھی اُبھرتے رہیں گے۔ لہجے میں خوداعتمادی کے ساتھ ہلکی سی رقابت اور محفل کی زرخیزی کا اعتراف ہے۔
-
موضوع : مشہور اشعار
بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو
زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو
دنیا کے لوگ جسے درست کہیں، تم بھی اسے درست تسلیم کرو۔
عوام کی زبان کو خدا کا نقارہ (غیبی اعلان) سمجھو۔
اس شعر میں شاعر نے عوامی رائے کے تقدس کو بیان کیا ہے۔ ذوقؔ کہتے ہیں کہ جس بات پر خلقِ خدا متفق ہو جائے، اس میں قدرت کی مرضی شامل ہوتی ہے۔ یہ شعر مشہور مقولہ 'زبانِ خلق نقارۂ خدا' کی شعری تشریح ہے کہ لوگوں کی آواز کو خدا کی آواز ماننا چاہیے۔
-
موضوع : مشہور اشعار
نالۂ بلبل شیدا تو سنا ہنس ہنس کر
اب جگر تھام کے بیٹھو مری باری آئی
-
موضوع : مشہور اشعار
شہر میں اپنے یہ لیلیٰ نے منادی کر دی
کوئی پتھر سے نہ مارے مرے دیوانے کو
-
موضوعات : فلمی اشعاراور 1 مزید
بہت جی خوش ہوا حالیؔ سے مل کر
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں
-
موضوع : مشہور اشعار
لگے منہ بھی چڑھانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجے دہن بگڑا
-
موضوع : مشہور اشعار
بندش الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں
شاعری بھی کام ہے آتشؔ مرصع ساز کا
لگا رہا ہوں مضامین نو کے پھر انبار
خبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو
-
موضوع : مشہور اشعار
پیری میں ولولے وہ کہاں ہیں شباب کے
اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے