Momin Khan Momin's Photo'

مومن خاں مومن

1800 - 1852 | دلی, ہندوستان

غالب اور ذوق کے ہم عصر۔ وہ حکیم ، ماہر نجوم اور شطرنج کے کھلاڑی بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا غالب نے ان کے شعر ’ تم مرے پاس ہوتے ہو گویا/ جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا‘ پر اپنا پورا دیوان دینے کی بات کہی تھی

غالب اور ذوق کے ہم عصر۔ وہ حکیم ، ماہر نجوم اور شطرنج کے کھلاڑی بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا غالب نے ان کے شعر ’ تم مرے پاس ہوتے ہو گویا/ جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا‘ پر اپنا پورا دیوان دینے کی بات کہی تھی

غزل 51

اشعار 62

عمر تو ساری کٹی عشق بتاں میں مومنؔ

آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

Momin all your life in idol worship you did spend

How can you be a Muslim say now towards the end?

Momin all your life in idol worship you did spend

How can you be a Muslim say now towards the end?

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

in such a manner are you close to me

when no one else at all there ever be

in such a manner are you close to me

when no one else at all there ever be

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

the love that 'tween us used to be, you may, may not recall

those promises of constancy, you may, may not recall

the love that 'tween us used to be, you may, may not recall

those promises of constancy, you may, may not recall

رباعی 4

 

ای- کتاب 42

دیوان مومن

 

1947

دیوان مومن

 

1971

دیوان مومن

 

1960

دیوان مومن

 

 

دیوان مومن

 

1934

دیوان مومن

 

1885

دیوان مومن

 

 

دیوان مومن

 

1882

حیات مومن

 

 

حیات مومن

 

 

تصویری شاعری 15

شب جو مسجد میں جا پھنسے مومنؔ رات کاٹی خدا خدا کر کے

ہو گئے نام_بتاں سنتے ہی مومنؔ بے_قرار ہم نہ کہتے تھے کہ حضرت پارسا کہنے کو ہیں

ہے کچھ تو بات مومنؔ جو چھا گئی خموشی کس بت کو دے دیا دل کیوں بت سے بن گئے ہو

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پر مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ نئے گلے وہ شکایتیں وہ مزے مزے کی حکایتیں وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کبھی بیٹھے سب میں جو روبرو تو اشارتوں ہی سے گفتگو وہ بیان شوق کا برملا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو ہوئے اتفاق سے گر بہم تو وفا جتانے کو دم_بہ_دم گلۂ_ملامت_اقربا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بری لگی تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو سنو ذکر ہے کئی سال کا کہ کیا اک آپ نے وعدہ تھا سو نباہنے کا تو ذکر کیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کہا میں نے بات وہ کوٹھے کی مرے دل سے صاف اتر گئی تو کہا کہ جانے مری بلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ بگڑنا وصل کی رات کا وہ نہ ماننا کسی بات کا وہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے با_وفا میں وہی ہوں مومنؔ_مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

ویڈیو 21

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر ویڈیو
آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو

نامعلوم

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

فریدہ خانم

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

ثریا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

غلام عباس

الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ

نسیم بیگم

دفن جب خاک میں ہم سوختہ_ساماں ہوں_گے

مہدی حسن

رویا کریں_گے آپ بھی پہروں اسی طرح

غلام علی

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

بیگم اختر

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

شانتی ہیرانند

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

شانتی ہیرانند

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

شانتی ہیرانند

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

شانتی ہیرانند

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

بھارتی وشواناتھن

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں_گے کسی سے ہم

تاج ملتانی

ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو

مہدی حسن

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

فریدہ خانم

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

فیروزہ بیگم

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

ہری ہرن

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

عابدہ پروین

آڈیو 14

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

شعرا متعلقہ

  • سید یوسف علی خاں ناظم سید یوسف علی خاں ناظم شاگرد
  • مرزا سلامت علی دبیر مرزا سلامت علی دبیر ہم عصر
  • شاد لکھنوی شاد لکھنوی ہم عصر
  • شیخ ابراہیم ذوقؔ شیخ ابراہیم ذوقؔ ہم عصر
  • مفتی صدرالدین آزردہ مفتی صدرالدین آزردہ ہم عصر
  • تعشق لکھنوی تعشق لکھنوی ہم عصر
  • سخی لکھنوی سخی لکھنوی ہم عصر
  • میر تسکینؔ دہلوی میر تسکینؔ دہلوی ہم عصر
  • مصطفیٰ خاں شیفتہ مصطفیٰ خاں شیفتہ ہم عصر
  • بہادر شاہ ظفر بہادر شاہ ظفر ہم عصر

شعرا کے مزید "دلی"

  • میر تقی میر میر تقی میر
  • میر اثر میر اثر
  • مرزا غالب مرزا غالب
  • شیخ ابراہیم ذوقؔ شیخ ابراہیم ذوقؔ
  • داغؔ دہلوی داغؔ دہلوی
  • شاہ نصیر شاہ نصیر
  • خواجہ میر درد خواجہ میر درد
  • تاباں عبد الحی تاباں عبد الحی
  • محمد رفیع سودا محمد رفیع سودا
  • ناجی شاکر ناجی شاکر