noImage

میر تسکینؔ دہلوی

1803 - 1851

غزل 12

اشعار 11

جس وقت نظر پڑتی ہے اس شوخ پہ تسکیںؔ

کیا کہیے کہ جی میں مرے کیا کیا نہیں ہوتا

  • شیئر کیجیے

شب وصال میں سننا پڑا فسانۂ غیر

سمجھتے کاش وہ اپنا نہ رازدار مجھے

  • شیئر کیجیے

تسکینؔ کروں کیا دل مضطر کا علاج اب

کم بخت کو مر کر بھی تو آرام نہ آیا

قاصد آیا ہے وہاں سے تو ذرا تھم تو سہی

بات تو کرنے دے اس سے دل بے تاب مجھے

  • شیئر کیجیے

اتنی نہ کیجے جانے کی جلدی شب وصال

دیکھے ہیں میں نے کام بگڑتے شتاب میں

کتاب 4

دیوان تسکین

 

 

انتخاب کلام

 

1970

انتخاب کلام

 

1970

اردو ادب،نئ دہلی

دیوان تسکین : شمارہ نمبر-003

1965

 

متعلقہ شعرا

  • مرزا غالب مرزا غالب ہم عصر
  • تعشق لکھنوی تعشق لکھنوی ہم عصر
  • بہادر شاہ ظفر بہادر شاہ ظفر ہم عصر
  • مومن خاں مومن مومن خاں مومن ہم عصر
  • شیخ ابراہیم ذوقؔ شیخ ابراہیم ذوقؔ ہم عصر
  • میر انیس میر انیس ہم عصر
  • شاد لکھنوی شاد لکھنوی ہم عصر
  • سخی لکھنوی سخی لکھنوی ہم عصر
  • لالہ مادھو رام جوہر لالہ مادھو رام جوہر ہم عصر
  • مصطفیٰ خاں شیفتہ مصطفیٰ خاں شیفتہ ہم عصر