کیا کیا مزے سے رات کی عہد شباب میں

میر تسکینؔ دہلوی

کیا کیا مزے سے رات کی عہد شباب میں

میر تسکینؔ دہلوی

MORE BYمیر تسکینؔ دہلوی

    کیا کیا مزے سے رات کی عہد شباب میں

    چھوڑوں نہ عمر رفتہ گر آ جائے خواب میں

    اک دل کے واسطے یہ پھنسے وہ عذاب میں

    رہتے ہیں اپنی زلف ہی کے پیچ و تاب میں

    ہے شوق وصل تجھ سے لپٹتا ہوں بار بار

    ورنہ یہ مستیاں تو نہیں تھیں شراب میں

    اتنی نہ کیجے جانے کی جلدی شب وصال

    دیکھے ہیں میں نے کام بگڑتے شتاب میں

    ہو جائے چاک سینہ کہ دل گھٹ کے مر چلا

    اے چارہ جو کسی کو پھنسا مت عذاب میں

    کر بحر و بر کی ہستئ موہوم پر نظر

    تھوڑی سی خاک ڈال دی چشم پر آب میں

    تب قتل گہہ میں قتل عدو کو چلے ہیں وہ

    میرا لہو ملا کے پیا جب شراب میں

    کن محنتوں سے وصل پہ راضی ہوئے ہیں وہ

    سو نامہ بر ہوئے جو سوال و جواب میں

    اختر شماریوں میں نکلتا ہے دم کہیں

    تسکیںؔ تمہیں کو دخل نہیں ہے حساب میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY