noImage

میر تسکینؔ دہلوی

1803 - 1851

46
Favorite

باعتبار

جس وقت نظر پڑتی ہے اس شوخ پہ تسکیںؔ

کیا کہیے کہ جی میں مرے کیا کیا نہیں ہوتا

قاصد آیا ہے وہاں سے تو ذرا تھم تو سہی

بات تو کرنے دے اس سے دل بے تاب مجھے

شب وصال میں سننا پڑا فسانۂ غیر

سمجھتے کاش وہ اپنا نہ رازدار مجھے

اتنی نہ کیجے جانے کی جلدی شب وصال

دیکھے ہیں میں نے کام بگڑتے شتاب میں

تسکینؔ کروں کیا دل مضطر کا علاج اب

کم بخت کو مر کر بھی تو آرام نہ آیا

کرتا ہوں تیری زلف سے دل کا مبادلہ

ہر چند جانتا ہوں یہ سودا برا نہیں

ضبط کرتا ہوں ولے اس پر بھی ہے یہ جوش اشک

گر پڑا جو آنکھ سے قطرہ وہ دریا ہو گیا

پوچھے جو تجھ سے کوئی کہ تسکیںؔ سے کیوں ملا

کہہ دیجو حال دیکھ کے رحم آ گیا مجھے

ابھی اس راہ سے کوئی گیا ہے

کہے دیتی ہے شوخی نقش پا کی

تسکیںؔ نے نام لے کے ترا وقت مرگ آہ

کیا جانے کیا کہا تھا کسی نے سنا نہیں

کہے دیتی ہیں یہ نیچی نگاہیں

کہ بالائے زمیں کیا کیا نہ ہوگا