noImage

میر تسکینؔ دہلوی

1803 - 1852

میر تسکینؔ دہلوی کے شعر

258
Favorite

باعتبار

شب وصال میں سننا پڑا فسانۂ غیر

سمجھتے کاش وہ اپنا نہ رازدار مجھے

جس وقت نظر پڑتی ہے اس شوخ پہ تسکیںؔ

کیا کہیے کہ جی میں مرے کیا کیا نہیں ہوتا

تسکینؔ کروں کیا دل مضطر کا علاج اب

کم بخت کو مر کر بھی تو آرام نہ آیا

قاصد آیا ہے وہاں سے تو ذرا تھم تو سہی

بات تو کرنے دے اس سے دل بے تاب مجھے

ابھی اس راہ سے کوئی گیا ہے

کہے دیتی ہے شوخی نقش پا کی

اتنی نہ کیجے جانے کی جلدی شب وصال

دیکھے ہیں میں نے کام بگڑتے شتاب میں

کرتا ہوں تیری زلف سے دل کا مبادلہ

ہر چند جانتا ہوں یہ سودا برا نہیں

پوچھے جو تجھ سے کوئی کہ تسکیںؔ سے کیوں ملا

کہہ دیجو حال دیکھ کے رحم آ گیا مجھے

ضبط کرتا ہوں ولے اس پر بھی ہے یہ جوش اشک

گر پڑا جو آنکھ سے قطرہ وہ دریا ہو گیا

کہے دیتی ہیں یہ نیچی نگاہیں

کہ بالائے زمیں کیا کیا نہ ہوگا

تسکیںؔ نے نام لے کے ترا وقت مرگ آہ

کیا جانے کیا کہا تھا کسی نے سنا نہیں

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI