تو کیوں پاس سے اٹھ چلا بیٹھے بیٹھے

میر تسکینؔ دہلوی

تو کیوں پاس سے اٹھ چلا بیٹھے بیٹھے

میر تسکینؔ دہلوی

MORE BYمیر تسکینؔ دہلوی

    تو کیوں پاس سے اٹھ چلا بیٹھے بیٹھے

    ہوا تجھ کو کیا بے وفا بیٹھے بیٹھے

    وہ آتے ہی آتے رہے پر قلق سے

    مرا کام ہی ہو گیا بیٹھے بیٹھے

    اٹھاتے ہو کیوں اپنی محفل سے مجھ کو

    لیا میں نے کیا آپ کا بیٹھے بیٹھے

    کرے سعی کچھ اٹھ کے اس کو سے اے دل

    یہ حاصل ہوا مدعا بیٹھے بیٹھے

    وو اس لطف سے گالیاں دے گئے ہیں

    کیا کرتے ہیں ہم دعا بیٹھے بیٹھے

    ذرا گھر سے باہر نکل مان کہنا

    نہ ہوگا کوئی مبتلا بیٹھے بیٹھے

    نہ اٹھا گیا دل کے ہاتھوں سے تسکیںؔ

    کہا اس نے جو سب سنا بیٹھے بیٹھے

    مآخذ :
    • کتاب : Ghazal Usne Chhedi(3) (Pg. 103)
    • Author : Farhat Ehsas
    • مطبع : Rekhta Books (2017)
    • اشاعت : 2017

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY