مومن خاں مومن
غزل 51
اشعار 67
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں محبوب کی موجودگی کو تنہائی کے لمحے سے باندھا گیا ہے۔ “گویا” بتاتا ہے کہ یہ قرب حقیقی بھی ہو سکتا ہے اور یاد و خیال کا پیدا کردہ بھی۔ جب دنیا ساتھ نہیں دیتی تو محبوب ہی دل کا سہارا بن جاتا ہے، مگر اسی میں تنہائی کی شدت بھی جھلکتی ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں مومنؔ
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر اپنی زندگی پر سخت خود ملامتی اور انجام کے خوف کا اعتراف ہے۔ “عشقِ بتاں” سے مراد وہ دلبستگیاں ہیں جو انسان کو ایمان سے ہٹا دیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ساری عمر غلط سمت میں گزری تو موت کے وقت کی ظاہری نیکی کیا معنی رکھتی ہے۔ مرکزی کیفیت پچھتاوا اور اپنے آپ پر طنز ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کو شکوہ ہے کہ بہت کچھ ممکن ہونے کے باوجود محبوب کی وابستگی نصیب نہ ہوئی۔ دوسری مصرعے کا استفہام اس بات پر زور دیتا ہے کہ دنیا میں سب کچھ ہو جاتا ہے، مگر یہی ایک خواہش پوری نہ ہو سکی۔ یہ تقدیر کے سامنے بے بسی اور یکطرفہ محبت کی کسک کو نمایاں کرتا ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر محبوب سے پوچھتا ہے کہ جو رشتہ اور باہمی قرار کبھی تھا، کیا اس کی یاد اب بھی باقی ہے۔ “قرار” میں تعلق کی پختگی اور باہمی رضا شامل ہے، اور “وعدہ نباہ” وفاداری کی قسم ہے۔ “یاد ہو کہ نہ یاد ہو” کی تکرار شکایت بھی ہے اور بےبسی بھی، جیسے بھول جانا ہی بےوفائی بن گیا ہو۔ اس طرح شعر یاد اور وفا کو محبت کی کسوٹی بنا دیتا ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب
وہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں یہ کیفیت ہے کہ محبوب کا پاس ہونا بھی دل کو مطمئن نہیں کرتا، کیونکہ جدائی کا خوف ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔ عاشق لمحۂ وصل میں بھی جدائی کو پہلے سے محسوس کرتا ہے۔ اسی اضطراب کی شدت سے رات بھر بے خوابی چھائی رہتی ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
رباعی 4
کتاب 46
تصویری شاعری 16
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پر مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ نئے گلے وہ شکایتیں وہ مزے مزے کی حکایتیں وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کبھی بیٹھے سب میں جو روبرو تو اشارتوں ہی سے گفتگو وہ بیان شوق کا برملا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو ہوئے اتفاق سے گر بہم تو وفا جتانے کو دم_بہ_دم گلۂ_ملامت_اقربا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بری لگی تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو سنو ذکر ہے کئی سال کا کہ کیا اک آپ نے وعدہ تھا سو نباہنے کا تو ذکر کیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کہا میں نے بات وہ کوٹھے کی مرے دل سے صاف اتر گئی تو کہا کہ جانے مری بلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ بگڑنا وصل کی رات کا وہ نہ ماننا کسی بات کا وہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے با_وفا میں وہی ہوں مومنؔ_مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو