Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Momin Khan Momin's Photo'

مومن خاں مومن

1800 - 1852 | دلی, انڈیا

غالب اور ذوق کے ہم عصر۔ وہ حکیم ، ماہر نجوم اور شطرنج کے کھلاڑی بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا غالب نے ان کے شعر ’ تم مرے پاس ہوتے ہو گویا/ جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا‘ پر اپنا پورا دیوان دینے کی بات کہی تھی

غالب اور ذوق کے ہم عصر۔ وہ حکیم ، ماہر نجوم اور شطرنج کے کھلاڑی بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا غالب نے ان کے شعر ’ تم مرے پاس ہوتے ہو گویا/ جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا‘ پر اپنا پورا دیوان دینے کی بات کہی تھی

مومن خاں مومن

غزل 51

اشعار 67

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں محبوب کی موجودگی کو تنہائی کے لمحے سے باندھا گیا ہے۔ “گویا” بتاتا ہے کہ یہ قرب حقیقی بھی ہو سکتا ہے اور یاد و خیال کا پیدا کردہ بھی۔ جب دنیا ساتھ نہیں دیتی تو محبوب ہی دل کا سہارا بن جاتا ہے، مگر اسی میں تنہائی کی شدت بھی جھلکتی ہے۔

عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں مومنؔ

آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر اپنی زندگی پر سخت خود ملامتی اور انجام کے خوف کا اعتراف ہے۔ “عشقِ بتاں” سے مراد وہ دلبستگیاں ہیں جو انسان کو ایمان سے ہٹا دیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ساری عمر غلط سمت میں گزری تو موت کے وقت کی ظاہری نیکی کیا معنی رکھتی ہے۔ مرکزی کیفیت پچھتاوا اور اپنے آپ پر طنز ہے۔

تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے

ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

Interpretation: Rekhta AI

شاعر کو شکوہ ہے کہ بہت کچھ ممکن ہونے کے باوجود محبوب کی وابستگی نصیب نہ ہوئی۔ دوسری مصرعے کا استفہام اس بات پر زور دیتا ہے کہ دنیا میں سب کچھ ہو جاتا ہے، مگر یہی ایک خواہش پوری نہ ہو سکی۔ یہ تقدیر کے سامنے بے بسی اور یکطرفہ محبت کی کسک کو نمایاں کرتا ہے۔

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

Interpretation: Rekhta AI

شاعر محبوب سے پوچھتا ہے کہ جو رشتہ اور باہمی قرار کبھی تھا، کیا اس کی یاد اب بھی باقی ہے۔ “قرار” میں تعلق کی پختگی اور باہمی رضا شامل ہے، اور “وعدہ نباہ” وفاداری کی قسم ہے۔ “یاد ہو کہ نہ یاد ہو” کی تکرار شکایت بھی ہے اور بےبسی بھی، جیسے بھول جانا ہی بےوفائی بن گیا ہو۔ اس طرح شعر یاد اور وفا کو محبت کی کسوٹی بنا دیتا ہے۔

تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب

وہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب

Interpretation: Rekhta AI

شعر میں یہ کیفیت ہے کہ محبوب کا پاس ہونا بھی دل کو مطمئن نہیں کرتا، کیونکہ جدائی کا خوف ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔ عاشق لمحۂ وصل میں بھی جدائی کو پہلے سے محسوس کرتا ہے۔ اسی اضطراب کی شدت سے رات بھر بے خوابی چھائی رہتی ہے۔

رباعی 4

 

کتاب 46

تصویری شاعری 16

ویڈیو 29

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر

زمرد بانو

زمرد بانو

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

اعجاز حسین حضروی

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

نیرہ نور

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو

نامعلوم

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

نامعلوم

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

پنکج اداس

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

فریدہ خانم

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

مومن خاں مومن

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

غلام عباس

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

ثریا

دفن جب خاک میں ہم سوختہ_ساماں ہوں_گے

مومن خاں مومن

دفن جب خاک میں ہم سوختہ_ساماں ہوں_گے

مہدی حسن

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

بھارتی وشواناتھن

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

شانتی ہیرانند

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

مہدی حسن

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

اقبال بانو

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

بیگم اختر

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

مومن خاں مومن

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

شانتی ہیرانند

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

استاد برکت علی خان

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

مومن خاں مومن

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

مہران امروہی

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

شانتی ہیرانند

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

شانتی ہیرانند

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں_گے کسی سے ہم

تاج ملتانی

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں_گے کسی سے ہم

خورشید بیگم

ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو

مہدی حسن

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

فریدہ خانم

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

مومن خاں مومن

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

فیروزہ بیگم

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

مومن خاں مومن

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

مومن خاں مومن

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

ہری ہرن

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

عابدہ پروین

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

مومن خاں مومن

آڈیو 15

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

اس وسعت_کلام سے جی تنگ آ گیا

Recitation

متعلقہ بلاگ

 

متعلقہ شعرا

"دلی" کے مزید شعرا

Recitation

بولیے