Momin Khan Momin's Photo'

مومن خاں مومن

1800 - 1852 | دلی, ہندوستان

غالب اور ذوق کے ہم عصر۔ وہ حکیم ، ماہر نجوم اور شطرنج کے کھلاڑی بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا غالب نے ان کے شعر ’ تم مرے پاس ہوتے ہو گویا/ جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا‘ پر اپنا پورا دیوان دینے کی بات کہی تھی

غالب اور ذوق کے ہم عصر۔ وہ حکیم ، ماہر نجوم اور شطرنج کے کھلاڑی بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا غالب نے ان کے شعر ’ تم مرے پاس ہوتے ہو گویا/ جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا‘ پر اپنا پورا دیوان دینے کی بات کہی تھی

تخلص : 'مومن'

اصلی نام : حکیم مومن خان

وفات : 14 May 1852 | دلی, ہندوستان

Relatives : سید یوسف علی خاں ناظم (شاگرد)

LCCN :n80013612

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

in such a manner are you close to me

when no one else at all there ever be

in such a manner are you close to me

when no one else at all there ever be

مومن اردو کے ان چند باکمال شاعروں میں سے ایک ہیں جن کی بدولت اردو غزل کی شہرت اور مقبولیت  کو چار چاند لگے۔مومن نے اس صفن کو ایسا عروج بخشا اور ایسے استادانہ جوہر دکھائے کہ غالب جیسا خود نگر شاعر ان کے ایک شعر پر اپنا دیوان قربان کرنے کو تیّار ہو گیا۔مومن صنف غزل کے صف اوّل کے شاعر ہیں۔انہوں نے اردو شاعری کی دوسری اصناف،قصیدے اور مثنوی میں بھی طبع آزمائی کی لیکن ان کا اصل  میدان غزل ہے جس میں وہ اپنی طرز کے واحد غزل گو ہیں۔مومن کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے غزل کو اس کے اصل مفہوم میں برتا اور خارجیت کا اظہار داخلیت کے ساتھ کرتے ہوئے ایک نئے رنگ کی غزل پیش کی۔اس رنگ میں وہ جس بلندی پر پہنچے وہاں ان کا کوئی مدّمقابل نظر نہیں آتا۔
حکیم مومن خاں مومن کا تعلق ایک کشمیری گھرانے سے تھا۔ان کا اصل نام محمد مومن تھا۔ان کے دادا حکیم مدار خاں شاہ عالم کے عہد میں دہلی آئے اور شاہی طبیبوں میں شامل ہو گئے۔مومن دہلی کے کوچہ چیلان میں 1801 میں پیدا ہوئے۔ان کے دادا کو بادشاہ کی طرف سے اک جاگیر ملی تھی جو نواب فیض خان نے ضبط کرکے ایک ہزار روپے سالانہ پنشن مقرر کر دی تھی ۔یہ پنشن ان کے خاندان میں جاری رہی۔مومن خان کا گھرانا بہت مذہبی تھا۔انہوں نے عربی تعلیم شاہ عبدالقادر  دہلوی سے حاصل کی۔فارسی میں بھی ان کو مہارت تھی۔دنیوی علوم کی تعلیم انہوں نے مکتب میں حاصل کی۔علوم متداولہ کے علاوہ ان کو طب،رمل،نجوم ریاضی،شطرنج اور موسیقی سے بھی دلچسپی تھی، جوا نی میں قدم رکھتے ہی انہوں نے شاعری شروع کردی تھی اور شاہ نصیر سے اصلاح لینے لگے تھے لیکن جلد ہی انہوں نے اپنی مشق اور جذبات کے راست بیاں کے طفیل دہلی کے شاعروں میں اپنی خاص جگہ بنا لی۔مالی لحاظ سے وہ متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔خاندانی پنشن ایک ہزار روپے سالانہ ضرور تھی لیکن وہ پوری نہیں ملتی تھی  جس کا شکوہ ان کے فارسی خطوط میں ملتا ہے۔مومن خاں کی زندگی اور شاعری پر دو چیزوں نے بہت گہرا اثر ڈالا ۔ایک ان کی رنگین مزاجی تھی اور دوسری ان کی مذہبیت۔لیکن ان کی زندگی کا سب سے دلچسپ حصہ ان کے معاشقے ہی ہیں۔محبت زندگی کا تقاضہ بن کر بار بار ان کے دل و دماغ پر چھاتی رہی۔ان کی شاعری پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شاعر کسی خیالی نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی محبوبہ کے عشق میں گرفتار ہے۔دہلی کا حسن پرور شہر اس پر مومن کی رنگین مزاجی،خود خوبصورت اور خوش لباس،نتیجہ یہ تھا انہوں نے بہت سے شکار پکڑےاور خود کم شکار ہوے۔۔۔" آے غزال چشم سدا میرے دام میں*صیاد ہی رہا میں،گرفتار کم ہوا"ان کے کلیات میں چھ مثنویاں ملتی ہیں اور ہر مثنوی کسی معاشقہ کا بیان ہے۔نہ جانے اور کتنے معاشقے ہوں گے جن کو مثنوی کی شکل دینے کا موقع نہ ملا ہو گا۔مومن کی محبوباؤں میں سے صرف ایک کا نام معلوم ہو سکا۔یہ تھیں امتہ الفاطمہ جن کا تخلص "صاحب جی" تھا۔موصوفہ پورب کی پشہا ور طوائف تھیں جو علاج کے لئے دہلی آئی تھیں۔مومن حکیم تھے لیکن  ان کی نبض دیکھتے ہی خود ان کے بیمار ہو گئے۔متعدد معاشقے مومن کے مزاج کے تلوّن کا بھی پتہ دیتے ہیں۔اس تلوّن کی جھلک ان کی شاعری میں بھی ہےکبھی تو وہ کہتے ہیں ۔"اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل*میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا" اور پھر یہ بھی کہتے ہیں۔۔"معشوق سے بھی ہم نے نبھائی برابری*واں لطف کم ہوا تو یہاں پیار کم ہوا"
مومن کے یہاں اک خاص قسم کی شانِ استغناء تھی۔مال و زر کی طلب میں انہوں نے کسی کا قصیدہ نہیں لکھا۔ان کے نو قصیدوں میں سے سات مذہبی نوعیت کے ہیں۔ایک قیدزہ انہوں  نے راجہ پٹیالہ کی شان میں لکھا ۔اس کا قصہ یوں ہے کہ  راجہ صاحب کو ان سے ملنے کا اشتیاق تھا۔ایک روز جب مومن ان کی رہائش گاہ کے سامنے سے گزر رہے تھے ،انو ں نے آدمی بھیج کر انیںپ بلا لیا،بڑی عزت سے بٹھایا اور باتیں کیں اور چلتے وقت ان کو ایک ہتھنی پر سوار کر کے رخصت کیا اور وہ ہتھنی انہیں کو دے دی ۔مومن نے قصیدے کے ذریعہ ان کا شکریہ ادا کیا۔دوسرا قصیدہ نواب ٹونک کی خدمت میں نہ پہنچ پانے کا معذرت نامہ ہے۔ کئی ریاستوں کے نوابین ان کو اپنے یہاں بلانا چاہتے تھے لیکن وہ کہیں نہیں گئے۔دہلی کالج کی پروفیسری بھی نہیں قبول کی۔
یہ استغناء شاید اس مذہبی ماحول کا اثر ہو جس میں ان کی پرورش ہوئی تھی۔شاہ عبدالعزیز کے خاندان سے ان کے خاندان کے گہرے مراسم تھے۔مومن عقیدتاً کٹّر مسلمان تھے۔1818ء میں انہوں نے سید احمد بریلوی کے ہاتھ پر بیعت کی لیکن ان کی جہاد کی تحریک میں خود شریک نہیں ہوئے۔البتہ جہاد کی حمایت  میں ان کے کچھ شعر ملتے ہیں۔مومن نے دو شادیاں کیں، پہلی بیوی سے ان کی نہیں بنی پھر دوسری شادی خواجہ میر درد کے خاندان میں خواجہ محمد نصیر کی بیٹی سے ہوئی۔موت سے کچھ عرصہ پہلے وہ عشق بازی سے کنارہ کش ہو گئے تھے۔1851ء میں وہ کوٹھے سے گر کر بری طرح زخمی ہو گئے تھے اور پانچ ماہ بعد ان کا انتقال ہو گیا ۔
مومن کے شاعرانہ مرتبہ کے متعلّق اکثر نقّاد متفق ہیں کہ انہیں قصیدہ ،مثنوی اور غزل پر یکساں قدرت حاصل تھی۔قصیدے میں وہ سودا اور ذوق کے مرتبہ کو نہیں پہنچتے تاہم اس میں شک نہیں کہ وہ اردو کے چند اچھے قصیدہ گو شعراء میں شامل ہیں۔مثنوی میں وہ دیا شنکر نسیم اور مرزا شوق کے ہم پلہ ہیں لیکن  مومن کی شاعرانہ عظمت کا انحصار ان کی غزل پر ہے۔ایک غزل گو کی حیثیت سے مومن نے اردو غزل کو ان خصوصیات کا حامل بنایا جو غزل اور دوسری اصناف میں امتیاز پیدا کرتی ہیں۔مومن کی غزل تغزّل کی شوخی،شگفتگی ،طنز اور رمزیت کی بہتریں ترجمان کہی جا سکتی ہے۔ان کی محبت جنسی محبت ہے جس پر وہ پردہ نہیں ڈالتے۔پردہ نشین تو ان کی محبوبہ ہے۔عشق کی وادی میں مومن جن جن حالات و کیفیات سے گزرے ان کو خلوص و صداقت کے ساتھ شعروں میں بیان کر دیا۔حسن و عشق کے خدّوخال میں انولں نے تخیل کے جو رنگ بھرے وہ ان کی اپنی ذہنی اپچ ہے۔ان کے اچھوتے تخیل اور نرالے انداز  بیان نےپرانے اور فرسودہ مضامین کو از سر نو زندہ اور  شگفتہ بنایا۔مومن اپنے عشق کے بیاں میں ابتذال نہیں پیدا ہونے دیتے۔انہوں نے لکھنوی شاعری کا رنگ اختیار کرتے ہوئے دکھا دیا کہ خارجی مضامین بھی تہذیب و متانت کے ساتھ بیان کئے جا سکتے ہیں اور یہی وہ طرۂ امتیاز ہے جو ان کو دوسرے غزل گو شعراء سے ممتاز کرتا ہے۔