ADVERTISEMENT

جوانی پر شعر

انسانی زندگی میں جو

دور سب سے زیادہ امنگوں ، آرزؤں ، تمناؤں اور رنگینیوں سے بھرا ہوتا ہے وہ جوانی ہی ہے ۔ جوانی کو موضوع بنانے والی شاعری جوانی کی ان رنگینیوں کو بھی قید کرتی ہے اور جوانی کے گزرنے اور اس کی یاد سے چھا جانے والے گہرے ملال کو بھی ۔

ہائے سیمابؔ اس کی مجبوری

جس نے کی ہو شباب میں توبہ

سیماب اکبرآبادی

گداز عشق نہیں کم جو میں جواں نہ رہا

وہی ہے آگ مگر آگ میں دھواں نہ رہا

جگر مراد آبادی

وقت پیری شباب کی باتیں

ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں

شیخ ابراہیم ذوقؔ

اے ہم نفس نہ پوچھ جوانی کا ماجرا

موج نسیم تھی ادھر آئی ادھر گئی

تلوک چند محروم
ADVERTISEMENT

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی

خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

علامہ اقبال

یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرو

میری اور اپنی جوانی کو نہ برباد کرو

اختر شیرانی

عذاب ہوتی ہیں اکثر شباب کی گھڑیاں

گلاب اپنی ہی خوشبو سے ڈرنے لگتے ہیں

بدر واسطی

جوانی کی دعا لڑکوں کو نا حق لوگ دیتے ہیں

یہی لڑکے مٹاتے ہیں جوانی کو جواں ہو کر

اکبر الہ آبادی
ADVERTISEMENT

کم سنی میں تو حسیں عہد وفا کرتے ہیں

بھول جاتے ہیں مگر سب جو شباب آتا ہے

انوراز

شباب نام ہے اس جاں نواز لمحے کا

جب آدمی کو یہ محسوس ہو جواں ہوں میں

اختر انصاری

تلاطم آرزو میں ہے نہ طوفاں جستجو میں ہے

جوانی کا گزر جانا ہے دریا کا اتر جانا

تلوک چند محروم

ترا شباب رہے ہم رہیں شراب رہے

یہ دور عیش کا تا دور آفتاب رہے

جلیل مانک پوری
ADVERTISEMENT

مزا ہے عہد جوانی میں سر پٹکنے کا

لہو میں پھر یہ روانی رہے رہے نہ رہے

چکبست برج نرائن

یہ حسن دل فریب یہ عالم شباب کا

گویا چھلک رہا ہے پیالہ شراب کا

اثر صہبائی

تیرے شباب نے کیا مجھ کو جنوں سے آشنا

میرے جنوں نے بھر دیے رنگ تری شباب میں

اثر صہبائی

سنبھالا ہوش تو مرنے لگے حسینوں پر

ہمیں تو موت ہی آئی شباب کے بدلے

سخن دہلوی
ADVERTISEMENT

رگوں میں دوڑتی ہیں بجلیاں لہو کے عوض

شباب کہتے ہیں جس چیز کو قیامت ہے

اختر انصاری

نوجوانی میں پارسا ہونا

کیسا کار زبون ہے پیارے

عبد الحمید عدم

مجھ تک اس محفل میں پھر جام شراب آنے کو ہے

عمر رفتہ پلٹی آتی ہے شباب آنے کو ہے

فانی بدایونی

جوانی کو بچا سکتے تو ہیں ہر داغ سے واعظ

مگر ایسی جوانی کو جوانی کون کہتا ہے

فانی بدایونی
ADVERTISEMENT

کیوں جوانی کی مجھے یاد آئی

میں نے اک خواب سا دیکھا کیا تھا

اسرار الحق مجاز

وہ کچھ مسکرانا وہ کچھ جھینپ جانا

جوانی ادائیں سکھاتی ہیں کیا کیا

بیخود دہلوی

جلالؔ عہد جوانی ہے دو گے دل سو بار

ابھی کی توبہ نہیں اعتبار کے قابل

جلالؔ لکھنوی

خاموش ہو گئیں جو امنگیں شباب کی

پھر جرأت گناہ نہ کی ہم بھی چپ رہے

حفیظ جالندھری
ADVERTISEMENT

کس طرح جوانی میں چلوں راہ پہ ناصح

یہ عمر ہی ایسی ہے سجھائی نہیں دیتا

آغا شاعر قزلباش

کیا یاد کر کے روؤں کہ کیسا شباب تھا

کچھ بھی نہ تھا ہوا تھی کہانی تھی خواب تھا

لالہ مادھو رام جوہر

اب جو اک حسرت جوانی ہے

عمر رفتہ کی یہ نشانی ہے

میر تقی میر

اف وہ طوفان شباب آہ وہ سینہ تیرا

جسے ہر سانس میں دب دب کے ابھرتا دیکھا

عندلیب شادانی
ADVERTISEMENT

پیری میں ولولے وہ کہاں ہیں شباب کے

اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے

منشی خوش وقت علی خورشید

جب ملا کوئی حسیں جان پر آفت آئی

سو جگہ عہد جوانی میں طبیعت آئی

حفیظ جونپوری

شرکت گناہ میں بھی رہے کچھ ثواب کی

توبہ کے ساتھ توڑیئے بوتل شراب کی

ظہیرؔ دہلوی

جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ

حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ

امیر مینائی
ADVERTISEMENT

کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں

جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا

عبد الحمید عدم

طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ

مرا شباب بھی لوٹا دو میری مہر کے ساتھ

ساجد سجنی

ادا آئی جفا آئی غرور آیا حجاب آیا

ہزاروں آفتیں لے کر حسینوں پر شباب آیا

نوح ناروی

لوگ کہتے ہیں کہ بد نامی سے بچنا چاہیئے

کہہ دو بے اس کے جوانی کا مزا ملتا نہیں

اکبر الہ آبادی

بلا ہے قہر ہے آفت ہے فتنہ ہے قیامت ہے

حسینوں کی جوانی کو جوانی کون کہتا ہے

عرش ملسیانی

اک ادا مستانہ سر سے پاؤں تک چھائی ہوئی

اف تری کافر جوانی جوش پر آئی ہوئی

داغؔ دہلوی

ہجر کو حوصلہ اور وصل کو فرصت درکار

اک محبت کے لیے ایک جوانی کم ہے

عباس تابش

ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا

بات پہنچی تری جوانی تک

فانی بدایونی

جھوٹ ہے سب تاریخ ہمیشہ اپنے کو دہراتی ہے

اچھا میرا خواب جوانی تھوڑا سا دہرائے تو

عندلیب شادانی

تصور میں بھی اب وہ بے نقاب آتے نہیں مجھ تک

قیامت آ چکی ہے لوگ کہتے ہیں شباب آیا

حفیظ جالندھری

اپنی اجڑی ہوئی دنیا کی کہانی ہوں میں

ایک بگڑی ہوئی تصویر جوانی ہوں میں

اختر انصاری

قیامت ہے تری اٹھتی جوانی

غضب ڈھانے لگیں نیچی نگاہیں

بیخود دہلوی

عجیب حال تھا عہد شباب میں دل کا

مجھے گناہ بھی کار ثواب لگتا تھا

ہیرا نند سوزؔ

ہے قیامت ترے شباب کا رنگ

رنگ بدلے گا پھر زمانے کا

اختر شیرانی

توبہ توبہ یہ بلا خیز جوانی توبہ

دیکھ کر اس بت کافر کو خدا یاد آیا

عرش ملسیانی

ناصحا عاشقی میں رکھ معذور

کیا کروں عالم جوانی ہے

گویا فقیر محمد

رات بھی نیند بھی کہانی بھی

ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی

فراق گورکھپوری

سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں

زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں

خواجہ میر درد