بولڈ شاعری

ہمیں ہے شوق کہ بے پردہ تم کو دیکھیں گے

تمہیں ہے شرم تو آنکھوں پہ ہاتھ دھر لینا

داغؔ دہلوی

آنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحب

وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

امیر مینائی

اف وہ طوفان شباب آہ وہ سینہ تیرا

جسے ہر سانس میں دب دب کے ابھرتا دیکھا

عندلیب شادانی

میں نے جو کچکچا کر کل ان کی ران کاٹی

تو ان نے کس مزے سے میری زبان کاٹی

انشا اللہ خاں انشا

تو کس کے کمرے میں تھی

میں تیرے کمرے میں تھا

عادل منصوری

متعلقہ موضوعات