Firaq Gorakhpuri's Photo'

فراق گورکھپوری

1896 - 1982 | الہٰ آباد, ہندوستان

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، جنہوں نے جدید شاعری کے لئے راہ ہموار کی۔ اپنے بصیرت افروز تنقیدی تبصروں کے لئے معروف۔ گیان پیٹھ انعام سے سرفراز

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، جنہوں نے جدید شاعری کے لئے راہ ہموار کی۔ اپنے بصیرت افروز تنقیدی تبصروں کے لئے معروف۔ گیان پیٹھ انعام سے سرفراز

غزل 64

نظم 7

اشعار 162

تمام شبنم و گل ہے وہ سر سے تا بہ قدم

رکے رکے سے کچھ آنسو رکی رکی سی ہنسی

  • شیئر کیجیے

وہ کچھ روٹھی ہوئی آواز میں تجدید دل داری

نہیں بھولا ترا وہ التفات سر گراں اب تک

  • شیئر کیجیے

اسی دنیا کے کچھ نقش و نگار اشعار ہیں میرے

جو پیدا ہو رہی ہے حق و باطل کے تصادم سے

  • شیئر کیجیے

رباعی 61

لطیفے 21

ای- کتاب 73

انار کلی

 

1945

اندازے

 

1959

اندازے

 

1956

باتیں فراق سے

 

1998

چراغاں

 

1966

ایک سو ایک نظمیں

 

1962

فراق : صدی کی آواز

 

1996

فراق : صدی کی آواز

 

2000

فراق اور نئی نسل

 

1997

فراق گورکھپوری

 

1984

تصویری شاعری 18

تمہیں کیوں_کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں سمجھ لو سانس لینا خودکشی کرنا سمجھتے ہیں کسی بدمست کو راز_آشنا سب کا سمجھتے ہیں نگاہ_یار تجھ کو کیا بتائیں کیا سمجھتے ہیں بس اتنے پر ہمیں سب لوگ دیوانہ سمجھتے ہیں کہ اس دنیا کو ہم اک دوسری دنیا سمجھتے ہیں کہاں کا وصل تنہائی نے شاید بھیس بدلا ہے ترے دم بھر کے مل جانے کو ہم بھی کیا سمجھتے ہیں امیدوں میں بھی ان کی ایک شان_بے_نیازی ہے ہر آسانی کو جو دشوار ہو جانا سمجھتے ہیں یہی ضد ہے تو خیر آنکھیں اٹھاتے ہیں ہم اس جانب مگر اے دل ہم اس میں جان کا کھٹکا سمجھتے ہیں کہیں ہوں تیرے دیوانے ٹھہر جائیں تو زنداں ہے جدھر کو منہ اٹھا کر چل پڑے صحرا سمجھتے ہیں جہاں کی فطرت_بیگانہ میں جو کیف_غم بھر دیں وہی جینا سمجھتے ہیں وہی مرنا سمجھتے ہیں ہمارا ذکر کیا ہم کو تو ہوش آیا محبت میں مگر ہم قیس کا دیوانہ ہو جانا سمجھتے ہیں نہ شوخی شوخ ہے اتنی نہ پرکار اتنی پرکاری نہ جانے لوگ تیری سادگی کو کیا سمجھتے ہیں بھلا دیں ایک مدت کی جفائیں اس نے یہ کہہ کر تجھے اپنا سمجھتے تھے تجھے اپنا سمجھتے ہیں یہ کہہ کر آبلہ_پا روندتے جاتے ہیں کانٹوں کو جسے تلووں میں کر لیں جذب اسے صحرا سمجھتے ہیں یہ ہستی نیستی سب موج_خیزی ہے محبت کی نہ ہم قطرہ سمجھتے ہیں نہ ہم دریا سمجھتے ہیں فراقؔ اس گردش_ایام سے کب کام نکلا ہے سحر ہونے کو بھی ہم رات کٹ جانا سمجھتے ہیں

ویڈیو 24

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر
Firaq Gorakhpuri - a rare video

فراق گورکھپوری

آدھی رات

۱ فراق گورکھپوری

ہر ساز سے ہوتی نہیں یہ دھن پیدا

فراق گورکھپوری

آڈیو 26

تمہیں کیوں_کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں

جنون_کارگر ہے اور میں ہوں

جور_و_بے_مہری_اغماض پہ کیا روتا ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

مزید دیکھیے

شعرا متعلقہ

  • ناصر کاظمی ناصر کاظمی ہم عصر
  • راز چاندپوری راز چاندپوری ہم عصر
  • وسیم خیر آبادی وسیم خیر آبادی استاد
  • جگر مراد آبادی جگر مراد آبادی ہم عصر
  • سیماب اکبرآبادی سیماب اکبرآبادی ہم عصر
  • بسمل سعیدی بسمل سعیدی ہم عصر
  • آنند نرائن ملا آنند نرائن ملا ہم عصر
  • طالب باغپتی طالب باغپتی ہم عصر
  • جوشؔ ملسیانی جوشؔ ملسیانی ہم عصر
  • عبد المجید سالک عبد المجید سالک ہم عصر

شعرا کے مزید "الہٰ آباد"

  • اکبر الہ آبادی اکبر الہ آبادی
  • سوریہ کانت ترپاٹھی سوریہ کانت ترپاٹھی
  • افسر الہ آبادی افسر الہ آبادی
  • حیرت الہ آبادی حیرت الہ آبادی
  • آنند نرائن ملا آنند نرائن ملا
  • احتشام حسین احتشام حسین
  • رازؔ الٰہ آبادی رازؔ الٰہ آبادی
  • سہیل احمد زیدی سہیل احمد زیدی
  • شبنم نقوی شبنم نقوی
  • فرخ جعفری فرخ جعفری

Added to your favorites

Removed from your favorites