Firaq Gorakhpuri's Photo'

فراق گورکھپوری

1896 - 1982 | الہٰ آباد, ہندوستان

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، جنہوں نے جدید شاعری کے لئے راہ ہموار کی۔ اپنے بصیرت افروز تنقیدی تبصروں کے لئے معروف۔ گیان پیٹھ انعام سے سرفراز

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، جنہوں نے جدید شاعری کے لئے راہ ہموار کی۔ اپنے بصیرت افروز تنقیدی تبصروں کے لئے معروف۔ گیان پیٹھ انعام سے سرفراز

177
Favorite

باعتبار

کتابوں کی دنیا مردوں اور زندوں دونوں کے بیچ کی دنیا ہے۔

وہی شاعری امر ہوتی ہے یا بہت دنوں تک زندہ رہتی ہے جس میں زیادہ سے زیادہ لفظ ایسے آئیں جنھیں ان پڑھ لوگ بھی جانتے اور بولتے ہیں۔

عوام میں اور بڑے ادیب میں یہ فرق نہیں ہوتا کہ عوام کم لفظ جانتے ہوں اور ادیب زیادہ لفظ جانتا ہے۔ ان دونوں میں فرق یہ ہوتا ہے کہ عوام کو اپنے لفظ ہر موقعے پر یاد نہیں آتے۔ عوام اپنے لفظوں کو حیرت انگیز طور پر ملا کر فقرے نہیں بناسکتے، انہیں زور دار طریقے پر استعمال نہیں کر سکتے لیکن ادیب عوام ہی کے الفاظ سے یہ سب کچھ کر کے دکھا دیتا ہے۔

سوز و گداز میں جب پختگی آجاتی ہے تو غم، غم نہیں رہتا بلکہ ایک روحانی سنجیدگی میں بدل جاتا ہے۔

زندگی کے خارجی مسائل کا حل شاعری نہیں لیکن وہ داخلی مسائل کا حل ضرور ہے۔

اردو کو مٹا دینا ہندی کے لئے اچھا نہیں ہے۔ ہندی کو مٹا دینا اردو کے لئے اچھا نہیں ہے۔ ہندی اور اردو دونوں ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔

زبان شعور کا ہاتھ پیر ہے۔

اب سے پچاس برس بعد میرا خیال نہیں بلکہ میرا یقین ہے کہ ہماری زبان رومن رسم الخط مستقل طور پر اختیار کر لے گی اور ہندی اردو کا قدیم و جدید تمام ادب رومن رسم الخط میں دیدہ دزیب شکل میں نہایت سستے داموں ملنے لگے گا۔

کسی قوم کو احمق بنانا ہو تو اس قوم کے بچوں کو آسان اور سہج لفظوں کے بدلے جبڑا توڑ لفظ گھونٹوا دیجیے۔ سب بچے احمق ہوجائیں گے۔

سو ڈیڑھ سو برس کے اندر اردو اور ہندی مل کر ایک زبان بن جائیں گی جس کی روح اور کلچر ایک ہوگا۔ اردو اور ہندی میں نہ کسی کی ہار ہوگی نہ جیت، زندگی کی جیت ہوگی۔

غم کا بھی ایک طربیہ پہلو ہوتا ہے اور نشاط کا بھی ایک المیہ پہلو ہوتا ہے۔

سب سے بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے جن اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اردو اور ہندی کے الگ الگ شعبے اور درجے یا کلاس ہیں انہیں توڑ کر ایک کردیا جائے۔

وہ دن آجائے گا کہ ہندو طالب علم انیسؔ کو سب سے بڑا شاعر بتائے گا اور مسلمان طالب علم تلسی داس کو انیسؔ سے دس گنا بڑا ٹھہرا ئے گا۔ ہندو طالب علم اردو غزلوں پر جان دے گا اور مسلمان طالب علم مہادیوی کے نرم رسیلے اور دل میں اتر جانے والے نغموں کی قسم کھائے گا۔

غزل وہ بانسری ہے جسے زندگی کی ہلچل میں ہم نے کہیں کھو دیا تھا اور جسے غزل کا شاعر کہیں سے پھر سے ڈھونڈ لاتا ہے اور جس کے لے سن کر بھگوان کی آنکھوں میں بھی انسان کے لئے محبت کے آنسو آ جاتے ہیں۔

رٹے ہوئے لفظوں سے بڑا ادب نہیں بنا کرتا۔

خوش نصیب سے خوش نصیب عاشق کو عشقیہ نغمے سہارا دیتے ہیں۔ پوری انسانی تہذیب و تمدن، تمام خارجی طمطراق کے باوجود فنون لطیفہ کی محتاج ہے۔

جو شخص یا جو جماعت یہ کہے کہ صرف ہندی ادب نے ہمارے کلچر کی سیوا کی اور اردو نے ہمارے کلچر کو نقصان پہنچایا یا صرف اردو نے ہمارے کلچر کی سیوا کی اور ہندی نے ہمارے کلچر کو نقصان پہنچایا، اس شخص اور جماعت کو کلچر کے متعلق رائے دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔

قوم اور قومی زندگی مٹ رہی ہے اور ہم ہیں کہ ہندی ہندی اور اردو اردو کیے جارہےہیں۔

موجودہ تمدن کے مطالبے ایسے ہیں کہ ہمیں رومن رسم الخط کو اپنانا پڑے گا۔

فنون لطیفہ کے بغیر تمدن بیمار پڑ جاتا ہے اور ایک بیماری نہیں سیکڑوں بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔

جمہوری ادب کے لیے خریداروں کا سوال زندگی اور موت کا سوال ہے۔

ہماری بولی ایک جیتی جاگتی چیز ہے۔ اگر اس میں سنسکرت کے وہ لفظ بھرے جائیں گے جو کوئی بولتا نہیں تو یہ گاڑی آگے نہیں بڑھے گی۔ اب ہندی اور اردو والے خود فیصلہ کریں کہ اگر ہندی اردو کی لڑائی میں جیت سہل زبان کی ہوگی تو جیت اردو کی ہوگی یا ہندی کی؟

زندگی کو داخلی صحت بخشنا فنون لطیفہ کی اصل غرض و غایت ہے۔

عموماً بلند عشقیہ شاعری کرنے والا شاعر غیر معمولی شدت جذبات و احساسات کے ساتھ عاشق بھی ہوتا ہے۔

شاعری کا مقصد ہم جو کچھ بھی سمجھیں اس کا حقیقی مقصد بلند ترین وجدانی کیفیات و جمالیاتی شعور پیدا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔

اگر ہم شعر سے صحیح طور پر متاثر ہوں تو شاعر کے کلام میں اس کے دل کی سوانح عمری، اس کی وجدانی شخصیت کا ارتقاء دیکھ سکتے ہیں۔