Firaq Gorakhpuri's Photo'

فراق گورکھپوری

1896 - 1982 | الہٰ آباد, ہندوستان

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، جنہوں نے جدید شاعری کے لئے راہ ہموار کی۔ اپنے بصیرت افروز تنقیدی تبصروں کے لئے معروف۔ گیان پیٹھ انعام سے سرفراز

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، جنہوں نے جدید شاعری کے لئے راہ ہموار کی۔ اپنے بصیرت افروز تنقیدی تبصروں کے لئے معروف۔ گیان پیٹھ انعام سے سرفراز

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں

تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں

اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں

کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں

عشق توفیق ہے گناہ نہیں

if someone were to listen, one thing I will opine

Love is not a crime forsooth it is grace divine

if someone were to listen, one thing I will opine

Love is not a crime forsooth it is grace divine

ہم سے کیا ہو سکا محبت میں

خیر تم نے تو بے وفائی کی

آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراقؔ

جب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گئے

we came to the tavern all gay and frolicsome

now having drunk the wine, somber have become

we came to the tavern all gay and frolicsome

now having drunk the wine, somber have become

غرض کہ کاٹ دیے زندگی کے دن اے دوست

وہ تیری یاد میں ہوں یا تجھے بھلانے میں

اب تو ان کی یاد بھی آتی نہیں

کتنی تنہا ہو گئیں تنہائیاں

nowadays even her thoughts do not intrude

see how forlorn and lonely is my solitude

nowadays even her thoughts do not intrude

see how forlorn and lonely is my solitude

تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہو

تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں

close to me you are there

should I speak or should I stare/see

close to me you are there

should I speak or should I stare/see

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں

ایسے بھی ہیں کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات

ذرا وصال کے بعد آئنہ تو دیکھ اے دوست

ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

رات بھی نیند بھی کہانی بھی

ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی

کون یہ لے رہا ہے انگڑائی

آسمانوں کو نیند آتی ہے

اسی کھنڈر میں کہیں کچھ دیے ہیں ٹوٹے ہوئے

انہیں سے کام چلاؤ بڑی اداس ہے رات

سنتے ہیں عشق نام کے گزرے ہیں اک بزرگ

ہم لوگ بھی فقیر اسی سلسلے کے ہیں

ضبط کیجے تو دل ہے انگارا

اور اگر روئیے تو پانی ہے

لائی نہ ایسوں ویسوں کو خاطر میں آج تک

اونچی ہے کس قدر تری نیچی نگاہ بھی

کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میں

جنوں کا نام اچھلتا رہا زمانے میں

Added to your favorites

Removed from your favorites