Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دل پر اشعار

دل شاعری کے اس انتخاب

کو پڑھتے ہوئے آپ اپنے دل کی حالتوں ، کیفیتوں اور صورتوں سے گزریں گے اورحیران ہوں گے کہ کس طرح کسی دوسرے ،تیسرے آدمی کا یہ بیان دراصل آپ کے اپنے دل کی حالت کا بیان ہے ۔ اس بیان میں دل کی آرزوئیں ہیں ، امنگیں ہیں ، حوصلے ہیں ، دل کی گہرائیوں میں جم جانے والی اداسیاں ہیں ، محرومیاں ہیں ، دل کی تباہ حالی ہے ، وصل کی آس ہے ، ہجر کا دکھ ہے ۔

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

فیض احمد فیض

اور کیا دیکھنے کو باقی ہے

آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا

فیض احمد فیض

زندگی کس طرح بسر ہوگی

دل نہیں لگ رہا محبت میں

جون ایلیا

کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے

روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے

جون ایلیا

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

شام کی فضا دھندلی اور دھوئیں جیسی تھی، اور حسن بھی بجھا بجھا سا اداس تھا۔

دل میں کئی پرانی باتیں کہانیوں کی طرح یوں یاد آئیں کہ بس آ کر ٹھہر گئیں۔

یہ شعر بیرونی منظر اور اندرونی کیفیت کو ایک کر دیتا ہے: دھواں دھواں شام دل کی دھند اور بوجھل پن کی علامت ہے۔ “حسن” کا اداس ہونا بتاتا ہے کہ دل کو خوشی دینے والی چیزیں بھی بے رنگ لگ رہی ہیں۔ اسی عالم میں بہت سی ادھوری یادیں/کہانیاں دل میں جاگتی ہیں اور رخصت نہیں ہوتیں، بس ایک خاموش کسک بن کر رہ جاتی ہیں۔

فراق گورکھپوری

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب

کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو

یا رب، میں دنیا کی محفلوں سے تنگ آ چکا ہوں۔

جب دل ہی بجھ جائے تو انجمن کی رونق کس کام کی؟

شاعر دنیاوی محفلوں کی چمک دمک سے بیزاری کا شکوہ خدا سے کرتا ہے۔ محفل و انجمن بیرونی رنگینی کی علامت ہیں، اور “دل کا بجھ جانا” اندر کی حرارت، شوق اور معنی کے ختم ہو جانے کا استعارہ ہے۔ جب اندر چراغ نہ رہے تو باہر کی رونق بھی بے لطف لگتی ہے۔ اس میں دل شکستگی کے ساتھ سچی طلب اور روحانی بیداری کی آرزو چھپی ہے۔

علامہ اقبال

تمہارا دل مرے دل کے برابر ہو نہیں سکتا

وہ شیشہ ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتا

تمہارا دل جذبات اور وفا میں میرے دل جیسا نہیں ہو سکتا۔

وہ دل شیشے جیسا نازک نہیں، اور یہ دل پتھر جیسا سخت نہیں ہو سکتا۔

داغؔ دہلوی نے دلوں کے فرق کو “شیشہ” اور “پتھر” کے استعارے سے واضح کیا ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ دونوں کے مزاج اور احساس کی کیفیت ایک جیسی نہیں، اس لیے برابری ممکن نہیں۔ ایک دل نازک اور جلد دکھنے والا ہے، دوسرا سخت اور بےحس۔ اس میں شکوہ، رنج اور محبت کی عدم مطابقت کا درد جھلکتا ہے۔

داغؔ دہلوی

دل آباد کہاں رہ پائے اس کی یاد بھلا دینے سے

کمرہ ویراں ہو جاتا ہے اک تصویر ہٹا دینے سے

جلیل عالیؔ

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

مہتاب رائے تاباں

ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں

اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں

ان حسرتوں سے کہہ دو کہ وہ کہیں اور جا کر رہیں۔

میرے داغدار دل میں اب اتنی گنجائش نہیں رہی۔

شاعر حسرتوں کو جاندار بنا کر یوں مخاطب ہے جیسے وہ دل میں آ بسیں ہوں۔ دل پہلے ہی دکھ اور زخموں کے داغوں سے بھرا ہوا ہے، اس لیے مزید آرزوؤں کے لیے جگہ نہیں بچتی۔ یہ شعر اندرونی تھکن، بےبسی اور بڑھتے ہوئے غم کی کیفیت کو سادہ مگر گہری تمثیل میں بیان کرتا ہے۔

بہادر شاہ ظفر

ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں

عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں

بشیر بدر

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا

نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

دل کا فیصلہ صرف نگاہ کے اشارے سے ہو جاتا ہے۔

اگر نگاہ میں شوخی نہ ہو تو دل موہ لینے والی ادا ہی کیا رہ جاتی ہے؟

شاعر کہتا ہے کہ محبت کا اصل حکم نگاہ ہی سناتی ہے، الفاظ ثانوی ہیں۔ نگاہ کی شوخی دل میں کھنچاؤ، اعتماد اور رغبت جگاتی ہے اور اسی سے دل متاثر ہوتا ہے۔ اگر یہ چمک اور چھیڑ چھاڑ بھری کیفیت نہ ہو تو دلبری بے رنگ اور بے اثر ہو جاتی ہے۔

علامہ اقبال

تم زمانے کی راہ سے آئے

ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا

باقی صدیقی

شیشہ ٹوٹے غل مچ جائے

دل ٹوٹے آواز نہ آئے

حفیظ میرٹھی

دل کی تکلیف کم نہیں کرتے

اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے

جون ایلیا

آپ پہلو میں جو بیٹھیں تو سنبھل کر بیٹھیں

دل بیتاب کو عادت ہے مچل جانے کی

جلیل مانک پوری

ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکا

مسکرا کر تم نے دیکھا دل تمہارا ہو گیا

جگر مراد آبادی

میں ہوں دل ہے تنہائی ہے

تم بھی ہوتے اچھا ہوتا

یہاں بس میں ہوں، میرا دل ہے، اور تنہائی ساتھ ہے۔

کاش تم بھی یہاں ہوتے تو اچھا لگتا۔

اس شعر میں ایک سادہ سی فہرست کے ذریعے دل کی ویرانی دکھائی گئی ہے: میں، دل، اور تنہائی۔ دل یہاں بے قراری اور جذبات کی علامت ہے جو اکیلے پن میں اور زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں۔ دوسرا مصرع ایک نرم سی حسرت ہے کہ محبوب کی موجودگی اس خلا کو بھر سکتی تھی۔ سارا دکھ شکوے کے بغیر، خاموش خواہش کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

فراق گورکھپوری

دل دے تو اس مزاج کا پروردگار دے

جو رنج کی گھڑی بھی خوشی سے گزار دے

اگر دل عطا کرنا ہے تو ایسا مزاج والا دل عطا کر۔

جو غم کے وقت کو بھی خوشی اور ہمت سے گزار دے۔

داغؔ دہلوی یہاں خدا سے راحت نہیں بلکہ دل کی کیفیت مانگتے ہیں۔ دل اور مزاج استعارہ ہیں اس باطنی قوت کے، جو حالات کی سختی کو بھی مثبت انداز میں سہہ لے۔ شعر کا جذبہ یہ ہے کہ اصل نعمت خوشی کے مواقع نہیں، بلکہ وہ ظرف ہے جو رنج میں بھی مسکراہٹ قائم رکھے۔ یہ قناعت اور استقامت کی دعا ہے۔

داغؔ دہلوی

مدت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیرؔ

اک بار دل تو دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا

منیر نیازی

کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی

سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی

فیض احمد فیض

ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں

دل ہمیشہ اداس رہتا ہے

بشیر بدر

دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے

جو کسی اور کا ہونے دے نہ اپنا رکھے

احمد فراز

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی

دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی

پروین شاکر

دل ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں

دوستوں کی مہربانی چاہئے

عبد الحمید عدم

میری قسمت میں غم گر اتنا تھا

دل بھی یارب کئی دیے ہوتے

اگر میری تقدیر میں اتنا زیادہ غم اور دکھ لکھا ہوا تھا،

تو اے خدا! تجھے چاہیے تھا کہ مجھے ایک کے بجائے کئی دل دیے ہوتے۔

غالب بارگاہِ الٰہی میں شوخی کے ساتھ شکوہ کر رہے ہیں کہ اے خدا تو نے میری قسمت میں غموں کا پہاڑ تو لکھ دیا مگر انہیں سہنے کے لیے دل صرف ایک دیا۔ ایک ناتواں دل اس قدر غم سہار نہیں سکتا، اس لیے غم کی فراوانی کے مطابق مجھے کئی دل ملنے چاہیے تھے تاکہ میں یہ سارا بوجھ اٹھا سکتا۔

مرزا غالب

دل پاگل ہے روز نئی نادانی کرتا ہے

آگ میں آگ ملاتا ہے پھر پانی کرتا ہے

افتخار عارف

دیا خاموش ہے لیکن کسی کا دل تو جلتا ہے

چلے آؤ جہاں تک روشنی معلوم ہوتی ہے

نشور واحدی

محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے

مگر مشکل تو یہ ہے دل بڑی مشکل سے ملتا ہے

جلیل مانک پوری

''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''

چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر

فیض احمد فیض

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا

حیدر علی آتش

جانتا ہے کہ وہ نہ آئیں گے

پھر بھی مصروف انتظار ہے دل

فیض احمد فیض

جانے والے سے ملاقات نہ ہونے پائی

دل کی دل میں ہی رہی بات نہ ہونے پائی

شکیل بدایونی

بت خانہ توڑ ڈالیے مسجد کو ڈھائیے

دل کو نہ توڑیئے یہ خدا کا مقام ہے

حیدر علی آتش

آپ دولت کے ترازو میں دلوں کو تولیں

ہم محبت سے محبت کا صلہ دیتے ہیں

ساحر لدھیانوی

ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا

تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو

بشیر بدر

عشق کی چوٹ کا کچھ دل پہ اثر ہو تو سہی

درد کم ہو یا زیادہ ہو مگر ہو تو سہی

جلالؔ لکھنوی

الفت میں برابر ہے وفا ہو کہ جفا ہو

ہر بات میں لذت ہے اگر دل میں مزا ہو

امیر مینائی

دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

دل کے اجڑ جانے کی بات کرنے کا اب کیا فائدہ ہے؟

یہ دل کا نگر تو سو بار پہلے ہی لُٹ چکا ہے۔

شاعر نے دل کو ایک شہر کی طرح برتا ہے جس پر بار بار غم اور صدمے حملہ آور ہوئے۔ اتنی تکرارِ زخم کے بعد ویرانی کا ذکر بے معنی لگتا ہے، گویا بربادی معمول بن گئی ہو۔ “سو مرتبہ” مبالغہ ہے جو دکھ کی طویل، مسلسل شدت اور بے بسی کو نمایاں کرتا ہے۔

میر تقی میر

آغاز محبت کا انجام بس اتنا ہے

جب دل میں تمنا تھی اب دل ہی تمنا ہے

جگر مراد آبادی

ہوشیاری دل نادان بہت کرتا ہے

رنج کم سہتا ہے اعلان بہت کرتا ہے

عرفان صدیقی

ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا

بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا

اسد علی خان قلق

بھول شاید بہت بڑی کر لی

دل نے دنیا سے دوستی کر لی

بشیر بدر

دل کے آئینے میں ہے تصویر یار

جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

لالہ موجی رام موجی

دل محبت سے بھر گیا بیخودؔ

اب کسی پر فدا نہیں ہوتا

بیخود دہلوی

دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں

لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں

قتیل شفائی

آرزو تیری برقرار رہے

دل کا کیا ہے رہا رہا نہ رہا

حسرتؔ موہانی

دل تو میرا اداس ہے ناصرؔ

شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

ناصر کاظمی

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

آخر اس درد کی دوا کیا ہے

اے میرے نادان اور بھلے دل، تجھے اچانک کیا ہو گیا ہے؟

آخر اس درد اور تکلیف کا علاج کیا ہے، کیا اس کی کوئی دوا ہے بھی یا نہیں؟

مرزا غالب اپنے دل سے مخاطب ہیں اور حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ عشق میں مبتلا ہو گیا ہے۔ وہ ایک لاچارگی کے عالم میں سوال کرتے ہیں کہ یہ کیسا درد ہے جس کا کوئی ظاہری علاج یا چارہ موجود نہیں ہے، گویا یہ مرض لا دوا ہے۔

مرزا غالب

دل بھی توڑا تو سلیقے سے نہ توڑا تم نے

بے وفائی کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں

مہتاب عالم
بولیے