دل پر اشعار
دل شاعری کے اس انتخاب
کو پڑھتے ہوئے آپ اپنے دل کی حالتوں ، کیفیتوں اور صورتوں سے گزریں گے اورحیران ہوں گے کہ کس طرح کسی دوسرے ،تیسرے آدمی کا یہ بیان دراصل آپ کے اپنے دل کی حالت کا بیان ہے ۔ اس بیان میں دل کی آرزوئیں ہیں ، امنگیں ہیں ، حوصلے ہیں ، دل کی گہرائیوں میں جم جانے والی اداسیاں ہیں ، محرومیاں ہیں ، دل کی تباہ حالی ہے ، وصل کی آس ہے ، ہجر کا دکھ ہے ۔
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
-
موضوعات : امیداور 4 مزید
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
-
موضوعات : عشقاور 1 مزید
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے
شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں
شام کی فضا دھندلی اور دھوئیں جیسی تھی، اور حسن بھی بجھا بجھا سا اداس تھا۔
دل میں کئی پرانی باتیں کہانیوں کی طرح یوں یاد آئیں کہ بس آ کر ٹھہر گئیں۔
یہ شعر بیرونی منظر اور اندرونی کیفیت کو ایک کر دیتا ہے: دھواں دھواں شام دل کی دھند اور بوجھل پن کی علامت ہے۔ “حسن” کا اداس ہونا بتاتا ہے کہ دل کو خوشی دینے والی چیزیں بھی بے رنگ لگ رہی ہیں۔ اسی عالم میں بہت سی ادھوری یادیں/کہانیاں دل میں جاگتی ہیں اور رخصت نہیں ہوتیں، بس ایک خاموش کسک بن کر رہ جاتی ہیں۔
-
موضوعات : اداسیاور 4 مزید
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
یا رب، میں دنیا کی محفلوں سے تنگ آ چکا ہوں۔
جب دل ہی بجھ جائے تو انجمن کی رونق کس کام کی؟
شاعر دنیاوی محفلوں کی چمک دمک سے بیزاری کا شکوہ خدا سے کرتا ہے۔ محفل و انجمن بیرونی رنگینی کی علامت ہیں، اور “دل کا بجھ جانا” اندر کی حرارت، شوق اور معنی کے ختم ہو جانے کا استعارہ ہے۔ جب اندر چراغ نہ رہے تو باہر کی رونق بھی بے لطف لگتی ہے۔ اس میں دل شکستگی کے ساتھ سچی طلب اور روحانی بیداری کی آرزو چھپی ہے۔
تمہارا دل مرے دل کے برابر ہو نہیں سکتا
وہ شیشہ ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتا
تمہارا دل جذبات اور وفا میں میرے دل جیسا نہیں ہو سکتا۔
وہ دل شیشے جیسا نازک نہیں، اور یہ دل پتھر جیسا سخت نہیں ہو سکتا۔
داغؔ دہلوی نے دلوں کے فرق کو “شیشہ” اور “پتھر” کے استعارے سے واضح کیا ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ دونوں کے مزاج اور احساس کی کیفیت ایک جیسی نہیں، اس لیے برابری ممکن نہیں۔ ایک دل نازک اور جلد دکھنے والا ہے، دوسرا سخت اور بےحس۔ اس میں شکوہ، رنج اور محبت کی عدم مطابقت کا درد جھلکتا ہے۔
دل آباد کہاں رہ پائے اس کی یاد بھلا دینے سے
کمرہ ویراں ہو جاتا ہے اک تصویر ہٹا دینے سے
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں
ان حسرتوں سے کہہ دو کہ وہ کہیں اور جا کر رہیں۔
میرے داغدار دل میں اب اتنی گنجائش نہیں رہی۔
شاعر حسرتوں کو جاندار بنا کر یوں مخاطب ہے جیسے وہ دل میں آ بسیں ہوں۔ دل پہلے ہی دکھ اور زخموں کے داغوں سے بھرا ہوا ہے، اس لیے مزید آرزوؤں کے لیے جگہ نہیں بچتی۔ یہ شعر اندرونی تھکن، بےبسی اور بڑھتے ہوئے غم کی کیفیت کو سادہ مگر گہری تمثیل میں بیان کرتا ہے۔
-
موضوع : حسرت
ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں
عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں
فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے
دل کا فیصلہ صرف نگاہ کے اشارے سے ہو جاتا ہے۔
اگر نگاہ میں شوخی نہ ہو تو دل موہ لینے والی ادا ہی کیا رہ جاتی ہے؟
شاعر کہتا ہے کہ محبت کا اصل حکم نگاہ ہی سناتی ہے، الفاظ ثانوی ہیں۔ نگاہ کی شوخی دل میں کھنچاؤ، اعتماد اور رغبت جگاتی ہے اور اسی سے دل متاثر ہوتا ہے۔ اگر یہ چمک اور چھیڑ چھاڑ بھری کیفیت نہ ہو تو دلبری بے رنگ اور بے اثر ہو جاتی ہے۔
-
موضوعات : اقبال ڈےاور 2 مزید
تم زمانے کی راہ سے آئے
ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا
شیشہ ٹوٹے غل مچ جائے
دل ٹوٹے آواز نہ آئے
-
موضوع : مشہور اشعار
آپ پہلو میں جو بیٹھیں تو سنبھل کر بیٹھیں
دل بیتاب کو عادت ہے مچل جانے کی
ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکا
مسکرا کر تم نے دیکھا دل تمہارا ہو گیا
میں ہوں دل ہے تنہائی ہے
تم بھی ہوتے اچھا ہوتا
یہاں بس میں ہوں، میرا دل ہے، اور تنہائی ساتھ ہے۔
کاش تم بھی یہاں ہوتے تو اچھا لگتا۔
اس شعر میں ایک سادہ سی فہرست کے ذریعے دل کی ویرانی دکھائی گئی ہے: میں، دل، اور تنہائی۔ دل یہاں بے قراری اور جذبات کی علامت ہے جو اکیلے پن میں اور زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں۔ دوسرا مصرع ایک نرم سی حسرت ہے کہ محبوب کی موجودگی اس خلا کو بھر سکتی تھی۔ سارا دکھ شکوے کے بغیر، خاموش خواہش کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
دل دے تو اس مزاج کا پروردگار دے
جو رنج کی گھڑی بھی خوشی سے گزار دے
اگر دل عطا کرنا ہے تو ایسا مزاج والا دل عطا کر۔
جو غم کے وقت کو بھی خوشی اور ہمت سے گزار دے۔
داغؔ دہلوی یہاں خدا سے راحت نہیں بلکہ دل کی کیفیت مانگتے ہیں۔ دل اور مزاج استعارہ ہیں اس باطنی قوت کے، جو حالات کی سختی کو بھی مثبت انداز میں سہہ لے۔ شعر کا جذبہ یہ ہے کہ اصل نعمت خوشی کے مواقع نہیں، بلکہ وہ ظرف ہے جو رنج میں بھی مسکراہٹ قائم رکھے۔ یہ قناعت اور استقامت کی دعا ہے۔
مدت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیرؔ
اک بار دل تو دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا
کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی
سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی
-
موضوعات : انتظاراور 2 مزید
ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں
دل ہمیشہ اداس رہتا ہے
دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے
جو کسی اور کا ہونے دے نہ اپنا رکھے
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی
دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
-
موضوعات : اداسیاور 3 مزید
دل ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں
دوستوں کی مہربانی چاہئے
میری قسمت میں غم گر اتنا تھا
دل بھی یارب کئی دیے ہوتے
اگر میری تقدیر میں اتنا زیادہ غم اور دکھ لکھا ہوا تھا،
تو اے خدا! تجھے چاہیے تھا کہ مجھے ایک کے بجائے کئی دل دیے ہوتے۔
غالب بارگاہِ الٰہی میں شوخی کے ساتھ شکوہ کر رہے ہیں کہ اے خدا تو نے میری قسمت میں غموں کا پہاڑ تو لکھ دیا مگر انہیں سہنے کے لیے دل صرف ایک دیا۔ ایک ناتواں دل اس قدر غم سہار نہیں سکتا، اس لیے غم کی فراوانی کے مطابق مجھے کئی دل ملنے چاہیے تھے تاکہ میں یہ سارا بوجھ اٹھا سکتا۔
-
موضوع : غم
دل پاگل ہے روز نئی نادانی کرتا ہے
آگ میں آگ ملاتا ہے پھر پانی کرتا ہے
دیا خاموش ہے لیکن کسی کا دل تو جلتا ہے
چلے آؤ جہاں تک روشنی معلوم ہوتی ہے
-
موضوعات : چراغاور 1 مزید
محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے
مگر مشکل تو یہ ہے دل بڑی مشکل سے ملتا ہے
''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''
چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر
-
موضوع : یاد
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا
-
موضوع : مشہور اشعار
جانتا ہے کہ وہ نہ آئیں گے
پھر بھی مصروف انتظار ہے دل
جانے والے سے ملاقات نہ ہونے پائی
دل کی دل میں ہی رہی بات نہ ہونے پائی
بت خانہ توڑ ڈالیے مسجد کو ڈھائیے
دل کو نہ توڑیئے یہ خدا کا مقام ہے
آپ دولت کے ترازو میں دلوں کو تولیں
ہم محبت سے محبت کا صلہ دیتے ہیں
-
موضوعات : عشقاور 2 مزید
ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا
تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو
-
موضوعات : دعااور 2 مزید
الفت میں برابر ہے وفا ہو کہ جفا ہو
ہر بات میں لذت ہے اگر دل میں مزا ہو
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
دل کے اجڑ جانے کی بات کرنے کا اب کیا فائدہ ہے؟
یہ دل کا نگر تو سو بار پہلے ہی لُٹ چکا ہے۔
شاعر نے دل کو ایک شہر کی طرح برتا ہے جس پر بار بار غم اور صدمے حملہ آور ہوئے۔ اتنی تکرارِ زخم کے بعد ویرانی کا ذکر بے معنی لگتا ہے، گویا بربادی معمول بن گئی ہو۔ “سو مرتبہ” مبالغہ ہے جو دکھ کی طویل، مسلسل شدت اور بے بسی کو نمایاں کرتا ہے۔
-
موضوعات : ویرانیاور 1 مزید
آغاز محبت کا انجام بس اتنا ہے
جب دل میں تمنا تھی اب دل ہی تمنا ہے
ہوشیاری دل نادان بہت کرتا ہے
رنج کم سہتا ہے اعلان بہت کرتا ہے
ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا
بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا
-
موضوعات : ادااور 2 مزید
دل کے آئینے میں ہے تصویر یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
دل محبت سے بھر گیا بیخودؔ
اب کسی پر فدا نہیں ہوتا
دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں
لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں
-
موضوعات : عشقاور 3 مزید
آرزو تیری برقرار رہے
دل کا کیا ہے رہا رہا نہ رہا
-
موضوع : آرزو
دل تو میرا اداس ہے ناصرؔ
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے
-
موضوعات : شہراور 1 مزید
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
اے میرے نادان اور بھلے دل، تجھے اچانک کیا ہو گیا ہے؟
آخر اس درد اور تکلیف کا علاج کیا ہے، کیا اس کی کوئی دوا ہے بھی یا نہیں؟
مرزا غالب اپنے دل سے مخاطب ہیں اور حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ عشق میں مبتلا ہو گیا ہے۔ وہ ایک لاچارگی کے عالم میں سوال کرتے ہیں کہ یہ کیسا درد ہے جس کا کوئی ظاہری علاج یا چارہ موجود نہیں ہے، گویا یہ مرض لا دوا ہے۔
دل بھی توڑا تو سلیقے سے نہ توڑا تم نے
بے وفائی کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں