Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جلیل عالیؔ

غزل 45

اشعار 20

دل آباد کہاں رہ پائے اس کی یاد بھلا دینے سے

کمرہ ویراں ہو جاتا ہے اک تصویر ہٹا دینے سے

راستہ سوچتے رہنے سے کدھر بنتا ہے

سر میں سودا ہو تو دیوار میں در بنتا ہے

دل پہ کچھ اور گزرتی ہے مگر کیا کیجے

لفظ کچھ اور ہی اظہار کئے جاتے ہیں

یہ شہر طلسمات ہے کچھ کہہ نہیں سکتے

پہلو میں کھڑا شخص فرشتہ کہ بلا ہے

اپنے دیئے کو چاند بتانے کے واسطے

بستی کا ہر چراغ بجھانا پڑا ہمیں

  • شیئر کیجیے

کتاب 3

 

ویڈیو 4

This video is playing from YouTube

متعلقہ شعرا

دیگر شعرا کو پڑھیے

 

Recitation

بولیے