noImage

ظفر اقبال ظفر

فتح پور, ہندوستان

غزل 20

اشعار 25

ہم لوگ تو مرتے رہے قسطوں میں ہمیشہ

پھر بھی ہمیں جینے کا ہنر کیوں نہیں آیا

موم کے لوگ کڑی دھوپ میں آ بیٹھے ہیں

آؤ اب ان کے پگھلنے کا تماشا دیکھیں

  • شیئر کیجیے

صحرا کا سفر تھا تو شجر کیوں نہیں آیا

مانگی تھیں دعائیں تو اثر کیوں نہیں آیا

ای- کتاب 1

 

"فتح پور" کے مزید شعرا

  • غلام مرتضی راہی غلام مرتضی راہی
  • رضوان احمد راز رضوان احمد راز
  • عزیز الرحمن شہید فتح پوری عزیز الرحمن شہید فتح پوری
  • انیس انصاری انیس انصاری
  • پیام فتحپوری پیام فتحپوری