جس روز سے اپنا مجھے ادراک ہوا ہے

ظفر اقبال ظفر

جس روز سے اپنا مجھے ادراک ہوا ہے

ظفر اقبال ظفر

MORE BY ظفر اقبال ظفر

    جس روز سے اپنا مجھے ادراک ہوا ہے

    ہر لمحہ مری زیست کا سفاک ہوا ہے

    گھر سے تو نکل آئے ہو سوچا نہیں کچھ بھی

    اب سوچ رہے ہو جو بدن چاک ہوا ہے

    تہذیب ہی باقی ہے نہ اب شرم و حیا کچھ

    کس درجہ اب انسان یہ بے باک ہوا ہے

    گزرا ہے کوئی سانحہ بستی میں ہماری

    ہر شخص کا چہرہ یہاں غم ناک ہوا ہے

    افتاد زمانے کی پڑی ایسی ہے مجھ پر

    تھا جو بھی اثاثہ خس و خاشاک ہوا ہے

    آندھی تھی وہ نفرت کی کہ انساں تھا اندھا

    ہیں شعلے اٹھے ایسے کہ سب خاک ہوا ہے

    اسلاف کے اقدار کو اپنایا ہے جس نے

    پستی میں رہا پھر بھی وہ افلاک ہوا ہے

    رکھا ہے قدم جس نے سیاست کے سفر پر

    وہ شخص ظفرؔ صاحب املاک ہوا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY