رابطہ کیوں رکھوں میں دریا سے

ظفر اقبال ظفر

رابطہ کیوں رکھوں میں دریا سے

ظفر اقبال ظفر

MORE BY ظفر اقبال ظفر

    رابطہ کیوں رکھوں میں دریا سے

    پیاس بجھتی ہے میری صحرا سے

    ہے مسائل سے اب وہی الجھا

    رشتہ جوڑا ہے جس نے دنیا سے

    خوشیاں امروز کی وہ پاتا ہے

    جو کہ غافل نہیں ہے فردا سے

    جس کو حاصل تھیں نعمتیں ساری

    اب ہے محروم آب و دانہ سے

    ہے خدا کی نظر میں عالی وہی

    خوش دلی سے جو ملتا ادنیٰ سے

    تھی جسے ساقی سے ظفرؔ نسبت

    تشنہ لوٹا وہ بادہ خانہ سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY