Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شوخی پر اشعار

شوخی معشوق کے حسن میں

مزید اضافہ کرتی ہے۔ معشوق اگر شوخ نہ ہو تو اس کے حسن میں ایک ذرا کمی تو رہ جاتی ہے ۔ ہمارے انتخاب کئے ہوئے ان اشعار میں آپ دیکھیں گے کہ معشوق کی شوخیاں کتنی دلچسپ اور مزے دار ہیں ان کا اظہار اکثر جگہوں پر عاشق کے ساتھ مکالمے میں ہوا ہے ۔

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا

نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

دل کا فیصلہ صرف نگاہ کے اشارے سے ہو جاتا ہے۔

اگر نگاہ میں شوخی نہ ہو تو دل موہ لینے والی ادا ہی کیا رہ جاتی ہے؟

شاعر کہتا ہے کہ محبت کا اصل حکم نگاہ ہی سناتی ہے، الفاظ ثانوی ہیں۔ نگاہ کی شوخی دل میں کھنچاؤ، اعتماد اور رغبت جگاتی ہے اور اسی سے دل متاثر ہوتا ہے۔ اگر یہ چمک اور چھیڑ چھاڑ بھری کیفیت نہ ہو تو دلبری بے رنگ اور بے اثر ہو جاتی ہے۔

علامہ اقبال

پوچھا جو ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح

زلفوں کو رخ پہ ڈال کے جھٹکا دیا کہ یوں

آرزو لکھنوی

جو کہا میں نے کہ پیار آتا ہے مجھ کو تم پر

ہنس کے کہنے لگا اور آپ کو آتا کیا ہے

اکبر الہ آبادی

عشوہ بھی ہے شوخی بھی تبسم بھی حیا بھی

ظالم میں اور اک بات ہے اس سب کے سوا بھی

اکبر الہ آبادی

ساتھ شوخی کے کچھ حجاب بھی ہے

اس ادا کا کہیں جواب بھی ہے

اس کی شوخی کے ساتھ ساتھ کچھ حیا اور پردہ داری بھی ہے۔

اس کے انداز کا کہیں کوئی ہمسر نہیں ملتا۔

داغؔ دہلوی محبوب کی اس دلکش کیفیت کو سراہتے ہیں کہ شوخی کے باوجود اس میں حجاب یعنی حیا بھی موجود ہے۔ یہی امتزاج اس کی ادا کو اور زیادہ پراثر بنا دیتا ہے، کیونکہ بے باکی بھی ہے اور وقار بھی۔ شاعر اسی نرالے توازن پر حیران ہے اور کہتا ہے کہ ایسی ادا کا دنیا میں جواب نہیں۔ یہ شعر خالص تحسین اور عاشقانہ مبہوتی کی فضا رکھتا ہے۔

داغؔ دہلوی

پردۂ لطف میں یہ ظلم و ستم کیا کہیے

ہائے ظالم ترا انداز کرم کیا کہیے

لطف کے پردے میں جو ظلم اور ستم ہو رہا ہے، اسے کیا نام دوں؟

ہائے ظالم! تیرے کرم کرنے کا یہ انوکھا انداز آخر کیا کہلائے؟

شاعر کہتا ہے کہ محبوب اپنی سختی کو لطف اور مہربانی کے پردے میں چھپا کر دکھاتا ہے، اس لیے ظلم بھی کرم بن کر سامنے آتا ہے۔ یہاں طنز اور شکوہ ساتھ ساتھ ہیں: بظاہر نرمی، باطن میں اذیت۔ “اندازِ کرم” کہہ کر وہ اسی دوغلے پن کو بے نقاب کرتا ہے کہ جسے رحمت سمجھا جائے وہی زخم بن جاتی ہے۔

فراق گورکھپوری

ذرا ان کی شوخی تو دیکھنا لیے زلف خم شدہ ہاتھ میں

میرے پاس آئے دبے دبے مجھے سانپ کہہ کے ڈرا دیا

نواب سلطان جہاں بیگم

شوخی سے ٹھہرتی نہیں قاتل کی نظر آج

یہ برق بلا دیکھیے گرتی ہے کدھر آج

آج قاتل محبوب کی شوخ نگاہ ایک جگہ ٹھہرتی ہی نہیں۔

یہ آفت جیسی بجلی دیکھیے آج کہاں گرے گی۔

داغؔ دہلوی نے محبوب کی نگاہ کو شوخی میں بھٹکتی ہوئی اور جان لیوا بنا کر دکھایا ہے۔ “قاتل” اور “برقِ بلا” کے استعاروں سے حسن کی کشش خطرے میں بدل جاتی ہے۔ عاشق خوف اور بےقراری میں ہے کہ یہ نگاہ کس پر پڑے گی اور کس کا دل و قرار لوٹ لے گی۔ اسی بےیقینی میں تڑپتی ہوئی دلکشی بھی ہے۔

داغؔ دہلوی

کہا میں نے مرتا ہوں تم پر تو بولے

نکلتے نہ دیکھا جنازہ کسی کا

نامعلوم

شوخیٔ حسن کے نظارے کی طاقت ہے کہاں

طفل ناداں ہوں میں بجلی سے دہل جاتا ہوں

مصحفی غلام ہمدانی

یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے محراب مسجد پر

یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا

مسجد کی محراب پر یہ شعر آخر کس شوخ مزاج نے لکھ دیا؟

یہ نادان لوگ قیام کے وقت سجدے میں گر پڑے۔

اس شعر میں طنز کے ذریعے عبادت کی بے سمتی دکھائی گئی ہے۔ محراب پر لکھی بات نے یہ حقیقت کھول دی کہ کچھ لوگ سمجھ بوجھ کے بغیر رسم نبھاتے ہیں۔ نماز کے جس مقام پر قیام ہونا چاہیے وہاں سجدہ کر دینا ان کی نادانی اور اندھی تقلید کی علامت ہے۔ پیغام یہ ہے کہ عبادت شعور اور درست سمجھ کے ساتھ ہونی چاہیے، محض عادت کے طور پر نہیں۔

علامہ اقبال

بڑھتی رہی نگاہ بہکتے رہے قدم

گزرا ہے اس طرح بھی زمانہ شباب کا

عیش میرٹھی

جانے کیا بھر دی ہیں اس نے اس چمن میں شوخیاں

جو بھی آیا وہ چمن کا رازداں بنتا گیا

کلیم احمدآبادی
بولیے