آئینہ پر شاعری

آئینے کو موضوع بنانے والی یہ شاعری پہلے ہی مرحلے میں آپ کو حیران کر دے گی ۔ آپ دیکھیں گے کہ صرف چہرہ دیکھنے کے لئے استعمال کیا جانے والا آئینہ شاعری میں آکر معنی کتنی وسیع اور رنگا رنگ دنیا تک پہنچنے کا ذریعہ بن گیا اور محبوب سے جڑے ہوئے موضوعات کے بیان میں اس کی علامتی حیثیت کتنی اہم ہوگئی ہے ۔یقیناً آپ آج آئینہ کے سامنے نہیں بلکہ ا س شاعری کے سامنے حیران ہوں گے جو آئینہ کو موضوع بناتی ہے ۔

آئنہ دیکھ کر تسلی ہوئی

ہم کو اس گھر میں جانتا ہے کوئی

گلزار

آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

مرزا غالب

آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے

صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

مرزا غالب

ذرا وصال کے بعد آئنہ تو دیکھ اے دوست

ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

فراق گورکھپوری

دوسروں پر اگر تبصرہ کیجئے

سامنے آئنہ رکھ لیا کیجئے

خمارؔ بارہ بنکوی

آئینوں کو زنگ لگا

اب میں کیسا لگتا ہوں

جون ایلیا

دیکھنا اچھا نہیں زانو پہ رکھ کر آئنہ

دونوں نازک ہیں نہ رکھیو آئنے پر آئنہ

داغؔ دہلوی

آئنہ یہ تو بتاتا ہے کہ میں کیا ہوں مگر

آئنہ اس پہ ہے خاموش کہ کیا ہے مجھ میں

my physical external form, the mirror does reflect

but it does not revel my innermost aspect

کرشن بہاری نور

آئنہ دیکھ کر وہ یہ سمجھے

مل گیا حسن بے مثال ہمیں

بیخود دہلوی

کوئی بھولا ہوا چہرہ نظر آئے شاید

آئینہ غور سے تو نے کبھی دیکھا ہی نہیں

شکیب جلالی

میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا

یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں

منیر نیازی

خواب کا رشتہ حقیقت سے نہ جوڑا جائے

آئینہ ہے اسے پتھر سے نہ توڑا جائے

ملک زادہ منظور احمد

دل پر چوٹ پڑی ہے تب تو آہ لبوں تک آئی ہے

یوں ہی چھن سے بول اٹھنا تو شیشہ کا دستور نہیں

عندلیب شادانی

نہ دیکھنا کبھی آئینہ بھول کر دیکھو

تمہارے حسن کا پیدا جواب کر دے گا

بیخود دہلوی

چاہے سونے کے فریم میں جڑ دو

آئنہ جھوٹ بولتا ہی نہیں

in golden frame you may display

untruth the mirror will not say

کرشن بہاری نور

مشکل بہت پڑے گی برابر کی چوٹ ہے

آئینہ دیکھئے گا ذرا دیکھ بھال کے

امیر مینائی

یہ صبح کی سفیدیاں یہ دوپہر کی زردیاں

اب آئینے میں دیکھتا ہوں میں کہاں چلا گیا

ناصر کاظمی

پہلے تو میری یاد سے آئی حیا انہیں

پھر آئنے میں چوم لیا اپنے آپ کو

شکیب جلالی

دیکھئے گا سنبھل کر آئینہ

سامنا آج ہے مقابل کا

ریاضؔ خیرآبادی

بھولے بسرے ہوئے غم پھر ابھر آتے ہیں کئی

آئینہ دیکھیں تو چہرے نظر آتے ہیں کئی

فضیل جعفری

مدتیں گزریں ملاقات ہوئی تھی تم سے

پھر کوئی اور نہ آیا نظر آئینے میں

حنیف کیفی

آئنے سے نظر چراتے ہیں

جب سے اپنا جواب دیکھا ہے

امیر قزلباش

ہمیں معشوق کو اپنا بنانا تک نہیں آتا

بنانے والے آئینہ بنا لیتے ہیں پتھر سے

صفی اورنگ آبادی

آئنہ دیکھ کے فرماتے ہیں

کس غضب کی ہے جوانی میری

امداد امام اثرؔ

بے ساختہ بکھر گئی جلووں کی کائنات

آئینہ ٹوٹ کر تری انگڑائی بن گیا

ساغر صدیقی

پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں

آئینہ دیکھ کے منہ چوم لیا کرتے ہیں

احمد حسین مائل

آئینہ آئینہ تیرتا کوئی عکس

اور ہر خواب میں دوسرا خواب ہے

عتیق اللہ

مری جگہ کوئی آئینہ رکھ لیا ہوتا

نہ جانے تیرے تماشے میں میرا کام ہے کیا

زیب غوری

اک بار جو ٹوٹے تو کبھی جڑ نہیں سکتا

آئینہ نہیں دل مگر آئینہ نما ہے

رضا ہمدانی

ہم نے دیکھا ہے روبرو ان کے

آئینہ آئینہ نہیں ہوتا

ابن مفتی

تمہارے سنگ تغافل کا کیوں کریں شکوہ

اس آئنے کا مقدر ہی ٹوٹنا ہوگا

عبد الحفیظ نعیمی

کوئی منہ پھیر لیتا ہے تو قاصرؔ اب شکایت کیا

تجھے کس نے کہا تھا آئنے کو توڑ کر لے جا

غلام محمد قاصر

وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آ سکے

آئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے

خواجہ میر درد

اس لئے کہتے تھے دیکھا منہ لگانے کا مزہ

آئینہ اب آپ کا مد مقابل ہو گیا

آغا شاعر قزلباش

آئینہ کبھی قابل دیدار نہ ہووے

گر خاک کے ساتھ اس کو سروکار نہ ہووے

عشق اورنگ آبادی

میں ترے واسطے آئینہ تھا

اپنی صورت کو ترس اب کیا ہے

غلام مرتضی راہی

جو ریزہ ریزہ نہیں دل اسے نہیں کہتے

کہیں نہ آئینہ اس کو جو پارہ پارہ نہیں

احمد ظفر

ان کی یکتائی کا دعویٰ مٹ گیا

آئنے نے دوسرا پیدا کیا

حفیظ جونپوری

ستارۂ خواب سے بھی بڑھ کر یہ کون بے مہر ہے کہ جس نے

چراغ اور آئنے کو اپنے وجود کا راز داں کیا ہے

غلام حسین ساجد

بنایا توڑ کے آئینہ آئینہ خانہ

نہ دیکھی راہ جو خلوت سے انجمن کی طرف

نظم طبا طبائی

دیکھ آئینہ جو کہتا ہے کہ اللہ رے میں

اس کا میں دیکھنے والا ہوں بقاؔ واہ رے میں

بقا اللہ بقاؔ

ایک کو دو کر دکھائے آئنہ

گر بنائیں آہن شمشیر سے

خواجہ محمد وزیر