Shakeb Jalali's Photo'

شکیب جلالی

1934 - 1966 | پاکستان

معروف پاکستانی شاعر، کم عمری میں خود کشی کی

معروف پاکستانی شاعر، کم عمری میں خود کشی کی

غزل 59

نظم 14

اشعار 41

آج بھی شاید کوئی پھولوں کا تحفہ بھیج دے

تتلیاں منڈلا رہی ہیں کانچ کے گلدان پر

بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا

ہم جس پہ مر مٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا

لوگ دیتے رہے کیا کیا نہ دلاسے مجھ کو

زخم گہرا ہی سہی زخم ہے بھر جائے گا

کتاب 4

کلیات شکیب جلالی

 

 

روشنی اے روشنی

 

 

شکیب جلالی

فن اور شخصیت

2006

شکیب جلالی: ایک مطالعہ

 

2009

 

ویڈیو 7

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر
shakaib jalali: ghazal: dhoop kaheen شکیب جلالی: غزل: دھُوپ کہیں ہے

نامعلوم

آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے

نامعلوم

جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے

چترا سنگھ

جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے

شکیب جلالی

مجرم

یہی رستہ مری منزل کی طرف جاتا ہے نامعلوم

مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ

نامعلوم

کنار_آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی

نامعلوم

آڈیو 15

آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے

بد_قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا

جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI