کوئی اس دل کا حال کیا جانے

شکیب جلالی

کوئی اس دل کا حال کیا جانے

شکیب جلالی

MORE BYشکیب جلالی

    کوئی اس دل کا حال کیا جانے

    ایک خواہش ہزار تہہ خانے

    موت نے آج خودکشی کر لی

    زیست پر کیا بنی خدا جانے

    پھر ہوا کوئی بد گماں ہم سے

    پھر جنم لے رہے ہیں افسانے

    وقت نے یہ کہا ہے رک رک کر

    آج کے دوست کل کے بیگانے

    دور سے ایک چیخ ابھری تھی

    بن گئے بے شمار افسانے

    زیست کے شور و شر میں ڈوب گئے

    وقت کو ناپنے کے پیمانے

    کتنا مشکل ہے منزلوں کا حصول

    کتنے آساں ہیں جال پھیلانے

    راز یہ ہے کہ کوئی راز نہیں

    لوگ پھر بھی مجھے نہ پہچانے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کوئی اس دل کا حال کیا جانے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY