ساتھی

شکیب جلالی

ساتھی

شکیب جلالی

MORE BYشکیب جلالی

    میں اس کو پانا بھی چاہوں

    تو یہ میرے لیے نا ممکن ہے

    وہ آگے آگے تیز خرام

    میں اس کے پیچھے پیچھے

    افتاں خیزاں

    آوازیں دیتا

    شور مچاتا

    کب سے رواں ہوں

    برگ خزاں ہوں

    جب میں اکتا کر رک جاؤں گا

    وہ بھی پل بھر کو ٹھہر کر

    مجھ سے آنکھیں چار کرے گا

    پھر اپنی چاہت کا اقرار کرے گا

    پھر میں

    منہ توڑ کے

    تیزی سے گھر کی جانب لوٹوں گا

    اپنے نقش قدم روندوں گا

    اب وہ دل تھام کے

    میرے پیچھے لپکتا آئے گا

    ندی نالے

    پتھر پربت پھاند آ جائے گا

    میں آگے آگے

    وہ پیچھے پیچھے

    دونوں کی رفتار ہے اک جیسی

    پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے

    وہ مجھ کو یا میں اس کو پا لوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY