راز کے موضوع پر شاعری

راز کو چھپانے اور بالآخر اس کے آشکار ہوجانے کے درمیان کی جن کیفیتوں کو شعرا نے موضوع بنایا ہے وہ بہت دلچسپ اور بہت نازک ہیں ۔ یہ شاعری ہمیں فن کار کے تخیل کی باریکیوں کا قائل بھی کرتی ہے اور کلاسیکی شاعری میں عاشق کی شخصیت کے تصور سے متعارف بھی کراتی ہے۔

اپنا ہی حال تک نہ کھلا مجھ کو تابہ مرگ

میں کون ہوں کہاں سے چلا تھا کہاں گیا

حیرت الہ آبادی

بہ پاس دل جسے اپنے لبوں سے بھی چھپایا تھا

مرا وہ راز تیرے ہجر نے پہنچا دیا سب تک

قتیل شفائی

دفن کر سکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کو

اور تم چاہو تو افسانہ بنا سکتا ہوں میں

اسرار الحق مجاز

دامن اشکوں سے تر کریں کیوں کر

راز کو مشتہر کریں کیوں کر

مبارک عظیم آبادی

غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا

میری طرف بھی غمزۂ غماز دیکھنا

مومن خاں مومن

ہائے وہ راز غم کہ جو اب تک

تیرے دل میں مری نگاہ میں ہے

جگر مراد آبادی

ہر صدا پر لگے ہیں کان یہاں

دل سنبھالے رہو زباں کی طرح

فیض احمد فیض

جن کو اپنی خبر نہیں اب تک

وہ مرے دل کا راز کیا جانیں

داغؔ دہلوی

کوئی کس طرح راز الفت چھپائے

نگاہیں ملیں اور قدم ڈگمگائے

نخشب جارچوی

کوئی سمجھے گا کیا راز گلشن

جب تک الجھے نہ کانٹوں سے دامن

فنا نظامی کانپوری

میں محبت نہ چھپاؤں تو عداوت نہ چھپا

نہ یہی راز میں اب ہے نہ وہی راز میں ہے

کلیم عاجز

تیرا ہر راز چھپائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی

خود کو دیوانہ بنائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی

اختر صدیقی

ان سے سب حال دغاباز کہے دیتے ہیں

میرے ہم راز مرا راز کہے دیتے ہیں

نوح ناروی

یہ میرے عشق کی مجبوریاں معاذ اللہ

تمہارا راز تمہیں سے چھپا رہا ہوں میں

اسرار الحق مجاز

زبان و دہن سے جو کھلتے نہیں ہیں

وہ کھل جاتے ہیں راز اکثر نظر سے

امن لکھنوی

Added to your favorites

Removed from your favorites