Hairat Allahabadi's Photo'

حیرت الہ آبادی

- 1892 | الہٰ آباد, ہندوستان

اکبر الہ آبادی کے ہمعصر،اپنے شعر " آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں "کے لیے مشہور

اکبر الہ آبادی کے ہمعصر،اپنے شعر " آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں "کے لیے مشہور

حیرت الہ آبادی

غزل 26

اشعار 4

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

نہ تو کچھ فکر میں حاصل ہے نہ تدبیر میں ہے

وہی ہوتا ہے جو انسان کی تقدیر میں ہے

  • شیئر کیجیے

اپنا ہی حال تک نہ کھلا مجھ کو تابہ مرگ

میں کون ہوں کہاں سے چلا تھا کہاں گیا

  • شیئر کیجیے

کہا عاشق سے واقف ہو تو فرمایا نہیں واقف

مگر ہاں اس طرف سے ایک نامحرم نکلتا ہے

کتاب 3

آگ خون پانی

 

1998

انتخاب کلام حیرت الہ آبادی

 

1997

کشکول وفا

 

1989

 

تصویری شاعری 3

 

آڈیو 4

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

بوسہ لیا جو چشم کا بیمار ہو گئے

سنا ہے زخمی_تیغ_نگہ کا دم نکلتا ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

"الہٰ آباد" کے مزید شعرا

  • اکبر الہ آبادی اکبر الہ آبادی
  • آنند نرائن ملا آنند نرائن ملا
  • شبنم نقوی شبنم نقوی
  • خواجہ جاوید اختر خواجہ جاوید اختر
  • افضل الہ آبادی افضل الہ آبادی
  • فرخ جعفری فرخ جعفری
  • ظفر انصاری ظفر ظفر انصاری ظفر
  • فراق گورکھپوری فراق گورکھپوری
  • عبد الحمید عبد الحمید
  • اعظم کریوی اعظم کریوی