Hairat Allahabadi's Photo'

حیرت الہ آبادی

1835 - 1892 | الہٰ آباد, ہندوستان

اکبر الہ آبادی کے ہمعصر،اپنے شعر " آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں "کے لیے مشہور

اکبر الہ آبادی کے ہمعصر،اپنے شعر " آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں "کے لیے مشہور

حیرت الہ آبادی

غزل 26

اشعار 4

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

اپنا ہی حال تک نہ کھلا مجھ کو تابہ مرگ

میں کون ہوں کہاں سے چلا تھا کہاں گیا

  • شیئر کیجیے

نہ تو کچھ فکر میں حاصل ہے نہ تدبیر میں ہے

وہی ہوتا ہے جو انسان کی تقدیر میں ہے

  • شیئر کیجیے

کہا عاشق سے واقف ہو تو فرمایا نہیں واقف

مگر ہاں اس طرف سے ایک نامحرم نکلتا ہے

کتاب 4

آگ خون پانی

 

1998

انتخاب کلام حیرت الہ آبادی

 

1997

کشکول وفا

 

1989

پتے کانٹے پھول

 

1996

 

تصویری شاعری 3

 

آڈیو 4

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

بوسہ لیا جو چشم کا بیمار ہو گئے

سنا ہے زخمی_تیغ_نگہ کا دم نکلتا ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

"الہٰ آباد" کے مزید شعرا

  • آنند نرائن ملا آنند نرائن ملا
  • سہیل احمد زیدی سہیل احمد زیدی
  • فراق گورکھپوری فراق گورکھپوری
  • خواجہ جاوید اختر خواجہ جاوید اختر
  • فرخ جعفری فرخ جعفری
  • افضل الہ آبادی افضل الہ آبادی
  • ظفر انصاری ظفر ظفر انصاری ظفر
  • عبد الحمید عبد الحمید
  • اعظم کریوی اعظم کریوی
  • اکبر الہ آبادی اکبر الہ آبادی