رومانی اشعار

رومان کے بغیر زندگی کتنی خالی خالی سی ہوتی ہے اس کا اندازہ تو آپ سب کو ہوگا ہی ۔ رومان چاہے کائنات کے ہرے بھرے خوبصورت مناظر کا ہو یا انسانوں کے درمیان نازک وپیچیدہ رشتوں کا اسی سے زندگی کی رونق مربوط ہے ۔ ہم سب زندگی کی سفاک صورتوں سے بچ نکلنے کے لئے رومانی لمحوں کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ تو آئیے ہمارا یہ شعری انتخاب ایک ایسا نگار خانہ ہے جہاں ہر طرف رومان بکھرا پڑا ہے ۔

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

بشیر بدر

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے

اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے

عبید اللہ علیم

آتے آتے مرا نام سا رہ گیا

اس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا

وسیم بریلوی

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی

بڑی آرزو تھی ملاقات کی

بشیر بدر

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

ناصر کاظمی

میں تو غزل سنا کے اکیلا کھڑا رہا

سب اپنے اپنے چاہنے والوں میں کھو گئے

کرشن بہاری نور

آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے

موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

قتیل شفائی

ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے

ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

قتیل شفائی

مجھے تنہائی کی عادت ہے میری بات چھوڑیں

یہ لیجے آپ کا گھر آ گیا ہے ہات چھوڑیں

جاوید صبا

تم مجھے چھوڑ کے جاؤ گے تو مر جاؤں گا

یوں کرو جانے سے پہلے مجھے پاگل کر دو

بشیر بدر

تم کیا جانو اپنے آپ سے کتنا میں شرمندہ ہوں

چھوٹ گیا ہے ساتھ تمہارا اور ابھی تک زندہ ہوں

ساغرؔ اعظمی

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

پروین شاکر

شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کو

میں دیکھتا رہا دریا تری روانی کو

شہریار

یارو کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا

وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے

جون ایلیا

دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں

کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

تم سے بچھڑ کر زندہ ہیں

جان بہت شرمندہ ہیں

افتخار عارف

بے چین اس قدر تھا کہ سویا نہ رات بھر

پلکوں سے لکھ رہا تھا ترا نام چاند پر

نامعلوم

اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا

مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا

بشیر بدر

اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری

لوگ تجھ کو مرا محبوب سمجھتے ہوں گے

بشیر بدر

لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے

تیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سے

جاں نثاراختر

پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا

میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا

بشیر بدر

وہ چہرہ کتابی رہا سامنے

بڑی خوب صورت پڑھائی ہوئی

بشیر بدر

میں جب سو جاؤں ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینا

یقیں آ جائے گا پلکوں تلے بھی دل دھڑکتا ہے

بشیر بدر

پوچھ لیتے وہ بس مزاج مرا

کتنا آسان تھا علاج مرا

فہمی بدایونی

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے

میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے

قیصر الجعفری

ابھی آئے ابھی جاتے ہو جلدی کیا ہے دم لے لو

نہ چھیڑوں گا میں جیسی چاہے تم مجھ سے قسم لے لو

امیر مینائی

ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری

کیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میری

seeing my condition, she laughs and asks of me

"Easy did you then imagine, loving me would be?"

seeing my condition, she laughs and asks of me

"Easy did you then imagine, loving me would be?"

امیر مینائی
  • شیئر کیجیے
    did you then imagine, loving me would be?"

seeing my condition, she laughs and asks of me

"Easy did you then imagine, loving me would be?"

">
  • غزل دیکھیے
  • رائے زنی
  • ایک چہرہ ہے جو آنکھوں میں بسا رہتا ہے

    اک تصور ہے جو تنہا نہیں ہونے دیتا

    جاوید نسیمی

    مجھے تو قید محبت عزیز تھی لیکن

    کسی نے مجھ کو گرفتار کر کے چھوڑ دیا

    شکیل بدایونی

    دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا

    جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا

    جوشؔ ملیح آبادی

    اپنے جیسی کوئی تصویر بنانی تھی مجھے

    مرے اندر سے سبھی رنگ تمہارے نکلے

    سالم سلیم

    جسے عشق کا تیر کاری لگے

    اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے

    ولی محمد ولی

    علاج اپنا کراتے پھر رہے ہو جانے کس کس سے

    محبت کر کے دیکھو نا محبت کیوں نہیں کرتے

    فرحت احساس

    تم پھر اسی ادا سے انگڑائی لے کے ہنس دو

    آ جائے گا پلٹ کر گزرا ہوا زمانہ

    شکیل بدایونی

    تمہارا نام آیا اور ہم تکنے لگے رستہ

    تمہاری یاد آئی اور کھڑکی کھول دی ہم نے

    منور رانا

    اتر بھی آؤ کبھی آسماں کے زینے سے

    تمہیں خدا نے ہمارے لیے بنایا ہے

    بشیر بدر

    کسی سبب سے اگر بولتا نہیں ہوں میں

    تو یوں نہیں کہ تجھے سوچتا نہیں ہوں میں

    افتخار مغل

    اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا

    میں نہیں تو کوئی تجھ کو دوسرا مل جائے گا

    عدیم ہاشمی

    اے جنوں پھر مرے سر پر وہی شامت آئی

    پھر پھنسا زلفوں میں دل پھر وہی آفت آئی

    آسی غازی پوری

    شام ہوتے ہی چراغوں کو بجھا دیتا ہوں

    دل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کے لیے

    نامعلوم

    صرف اس کے ہونٹ کاغذ پر بنا دیتا ہوں میں

    خود بنا لیتی ہے ہونٹوں پر ہنسی اپنی جگہ

    انور شعور

    میں ہر حال میں مسکراتا رہوں گا

    تمہاری محبت اگر ساتھ ہوگی

    بشیر بدر

    دل میں طوفان ہو گیا برپا

    تم نے جب مسکرا کے دیکھ لیا

    نامعلوم

    جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہوگا

    ترے لبوں پہ مرے لب ہوں ایسا کب ہوگا

    شہریار

    پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے

    نئے پرندوں کو اڑنے میں وقت تو لگتا ہے

    ہستی مل ہستی

    دیکھوں ترے ہاتھوں کو تو لگتا ہے ترے ہاتھ

    مندر میں فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں

    جاں نثاراختر

    مہک رہی ہے زمیں چاندنی کے پھولوں سے

    خدا کسی کی محبت پہ مسکرایا ہے

    بشیر بدر

    دیکھو یہ کسی اور کی آنکھیں ہیں کہ میری

    دیکھوں یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تم ہو

    احمد فراز

    قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو

    ہم لوگ محبت کی کہانی میں مریں ہیں

    اعجاز توکل

    ہم تو سمجھے تھے کہ برسات میں برسے گی شراب

    آئی برسات تو برسات نے دل توڑ دیا

    showers of wine, I did think, would come with rainy clime

    but alas when it did rain my heart broke one more time

    showers of wine, I did think, would come with rainy clime

    but alas when it did rain my heart broke one more time

    سدرشن فاخر
    Rekhta