Fahmi Badayuni's Photo'

فہمی بدایونی

1952 | بدایوں, ہندوستان

فہمی بدایونی

غزل 19

اشعار 13

پوچھ لیتے وہ بس مزاج مرا

کتنا آسان تھا علاج مرا

میں نے اس کی طرف سے خط لکھا

اور اپنے پتے پہ بھیج دیا

  • شیئر کیجیے

پریشاں ہے وہ جھوٹا عشق کر کے

وفا کرنے کی نوبت آ گئی ہے

  • شیئر کیجیے

خوشی سے کانپ رہی تھیں یہ انگلیاں اتنی

ڈلیٹ ہو گیا اک شخص سیو کرنے میں

  • شیئر کیجیے

خوں پلا کر جو شیر پالا تھا

اس نے سرکس میں نوکری کر لی

  • شیئر کیجیے

تصویری شاعری 2

جاہلوں کو سلام کرنا ہے اور پھر جھوٹ_موٹ ڈرنا ہے کاش وہ راستے میں مل جائے مجھ کو منہ پھیر کر گزرنا ہے پوچھتی ہے صدائے_بال_و_پر کیا زمیں پر نہیں اترنا ہے سوچنا کچھ نہیں ہمیں فی_الحال ان سے کوئی بھی بات کرنا ہے بھوک سے ڈگمگا رہے ہیں پاؤں اور بازار سے گزرنا ہے

بس تمہارا مکاں دکھائی دیا جس میں سارا جہاں دکھائی دیا وہ وہیں تھا جہاں دکھائی دیا عشق میں یہ کہاں دکھائی دیا عمر بھر پر نہیں ملے ہم کو عمر بھر آسماں دکھائی دیا روز دیدہ_وروں سے کہتا ہوں تو کہاں تھا کہاں دکھائی دیا اچھے_خاصے قفس میں رہتے تھے جانے کیوں آسماں دکھائی دیا

 

متعلقہ بلاگ

 

"بدایوں" کے مزید شعرا

  • فانی بدایونی فانی بدایونی
  • احمد عظیم احمد عظیم
  • انیس قلب انیس قلب
  • عمران بدایوںی عمران بدایوںی
  • عزیز بدایونی عزیز بدایونی
  • حسیب سوز حسیب سوز
  • وسیم نادر وسیم نادر
  • اجول وششٹھا اجول وششٹھا
  • مذاق بدایونی مذاق بدایونی
  • شیراز خان شیراز خان