نمک کی روز مالش کر رہے ہیں

فہمی بدایونی

نمک کی روز مالش کر رہے ہیں

فہمی بدایونی

MORE BY فہمی بدایونی

    نمک کی روز مالش کر رہے ہیں

    ہمارے زخم ورزش کر رہے ہیں

    سنو لوگوں کو یہ شک ہو گیا ہے

    کہ ہم جینے کی سازش کر رہے ہیں

    ہماری پیاس کو رانی بنا لیں

    کئی دریا یہ کوشش کر رہے ہیں

    مرے صحرا سے جو بادل اٹھے تھے

    کسی دریا پہ بارش کر رہے ہیں

    یہ سب پانی کی خالی بوتلیں ہیں

    جنہیں ہم نذر آتش کر رہے ہیں

    ابھی چمکے نہیں غالبؔ کے جوتے

    ابھی نقاد پالش کر رہے ہیں

    تری تصویر، پنکھا، میز، مفلر

    مرے کمرے میں گردش کر رہے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY