موسم پر شاعری

موسم کی خوشگواری اور اس کی بے دردی کو شاعری میں الگ الگ طریقوں سے برتا گیا ہے ۔ ہمارے اس انتخاب میں آپ دیکھیں گے کہ موسم دوست بھی ہے اور دشمن بھی ۔ ساتھ ہی شاعری میں موسم کی رومان پرور فضا سے پیدا ہونے والے عشقیہ جذبات کو بھی موضوع بنایا گیا ہے ۔ آپ کو ہمارا یہ انتخاب پسند آئے گا ۔

جو ان معصوم آنکھوں نے دیے تھے

وہ دھوکے آج تک میں کھا رہا ہوں

فراق گورکھپوری

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے

میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے

قیصر الجعفری

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا

اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

قتیل شفائی

سردی میں دن سرد ملا

ہر موسم بے درد ملا

محمد علوی

موڈ ہو جیسا ویسا منظر ہوتا ہے

موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

نامعلوم

آتی جاتی ہے جا بہ جا بدلی

ساقیا جلد آ ہوا بدلی

امام بخش ناسخ