ADVERTISEMENT

ہچکی پر اشعار

ہندوستانی اساطیری

روایات کے حوالے سے ہچکی کا سبب یہی سمجھا جاتا ہے کہ کوئی یاد کررہا ہے ۔ اس قسم کے تصورات سچ اور جھوٹ سے ماورا ہوتے ہیں ۔ شاعروں نے بھی ہچکی کو اس کے اسی تناظر میں برتا ہے ۔ کچھ اشعار کا انتخاب ہم آپ کے لئے پیش کر رہے ہیں ۔

آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے

موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

قتیل شفائی

امیرؔ اب ہچکیاں آنے لگی ہیں

کہیں میں یاد فرمایا گیا ہوں

امیر مینائی

مجھے یاد کرنے سے یہ مدعا تھا

نکل جائے دم ہچکیاں آتے آتے

داغؔ دہلوی

ہچکیاں رات درد تنہائی

آ بھی جاؤ تسلیاں دے دو

ناصر جونپوری
ADVERTISEMENT

ہچکیوں پر ہو رہا ہے زندگی کا راگ ختم

جھٹکے دے کر تار توڑے جا رہے ہیں ساز کے

ناطق گلاوٹھی

ہچکیاں آتی ہیں پر لیتے نہیں وہ میرا نام

دیکھنا ان کی فراموشی کو میری یاد کو

سخی لکھنوی

خبر دیتی ہے یاد کرتا ہے کوئی

جو باندھا ہے ہچکی نے تار آتے آتے

افسر الہ آبادی