لب پر اشعار
محبوب کے لبوں کی تعریف
وتحسین اور ان سے شکوہ شکایت شاعری میں عام ہے ۔ لبوں کی خوبصورتی اور ان کی نازکی کے مضمون کو شاعروں نے نئے نئے دڈھنگ سے باندھا ہے ۔ لبوں کے شعری بیان میں ایک پہلو یہ بھی رہا ہے کہ ان پر ایک گہری چپ پڑی ہوئی ہے ، وہ ہلتے نہیں عاشق سے بات نہیں کرتے ۔ یہ لب کہیں گلاب کی پنکھڑی کی طرح نازک ہیں تو کہیں ان سے پھول جھڑتے ہیں ۔اس مضمون میں اور بھی کئی دلچسپ پہلو ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
نازکی اس کے لب کی کیا کہئے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
-
موضوع : مشہور اشعار
اس کے ہونٹوں پہ رکھ کے ہونٹ اپنے
بات ہی ہم تمام کر رہے ہیں
کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
شوق ہے اس دل درندہ کو
آپ کے ہونٹ کاٹ کھانے کا
کیوں پرکھتے ہو سوالوں سے جوابوں کو عدیمؔ
ہونٹ اچھے ہوں تو سمجھو کہ سوال اچھا ہے
-
موضوع : سوال
تجھ سا کوئی جہان میں نازک بدن کہاں
یہ پنکھڑی سے ہونٹ یہ گل سا بدن کہاں
صرف اس کے ہونٹ کاغذ پر بنا دیتا ہوں میں
خود بنا لیتی ہے ہونٹوں پر ہنسی اپنی جگہ
-
موضوعات : روماناور 4 مزید
ایک دم اس کے ہونٹ چوم لیے
یہ مجھے بیٹھے بیٹھے کیا سوجھی
ان لبوں نے نہ کی مسیحائی
ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا
خدا کو مان کہ تجھ لب کے چومنے کے سوا
کوئی علاج نہیں آج کی اداسی کا
مسکرائے بغیر بھی وہ ہونٹ
نظر آتے ہیں مسکرائے ہوئے
ترے لبوں کو ملی ہے شگفتگی گل کی
ہماری آنکھ کے حصے میں جھرنے آئے ہیں
آتا ہے جی میں ساقئ مہ وش پہ بار بار
لب چوم لوں ترا لب پیمانہ چھوڑ کر
-
موضوعات : بوسہاور 1 مزید
بجھے لبوں پہ ہے بوسوں کی راکھ بکھری ہوئی
میں اس بہار میں یہ راکھ بھی اڑا دوں گا
-
موضوع : بوسہ
ہونٹوں پر اک بار سجا کر اپنے ہونٹ
اس کے بعد نہ باتیں کرنا سو جانا
کانپتے ہونٹ بھیگتی پلکیں
بات ادھوری ہی چھوڑ دیتا ہوں
کیا کروں اے تشنگی تیرا مداوا بس وہ لب
جن لبوں کو چھو کے پانی آگ بنتا جائے ہے
-
موضوع : تشنگی
اشک آنکھوں سے مری نکلے مسلسل لیکن
اس نے اک حرف تسلی نہ نکالا لب سے
غرور تشنہ دہانی تری بقا کی قسم
ندی ہمارے لبوں کی طرف اچھلتی رہی
-
موضوع : دریا
یہ لب و رخسار یہ چہرا تیرا پر نور سا
تجھ کو کیا دیکھا لگا جیسے کوئی دیکھی غزل
-
موضوعات : رخساراور 1 مزید
مدت کے بعد نورؔ ہنسی لب پہ آئی ہے
وہ اپنا ہم خیال بنا لے گیا مجھے
-
موضوع : مسکراہٹ
کلی چٹخ کے لبوں کے مزاج تک پہنچی
گلاب ٹوٹ کے سرخیٔ گال تک آئے
-
موضوعات : روماناور 2 مزید
مرے اشعار ہیں وہ آسمانی خواب جن کو
مری مٹی کے ہونٹھوں پر اتارا جا رہا ہے
-
موضوعات : خواباور 1 مزید
ساقیا مہر بلب کر کے صلہ کیا پایا
حشر کچھ اور خموشی نے بپا رکھا ہے
-
موضوع : ساقی
اک بوسہ ثبت کرنے کا اعلان کر دیا
ہونٹوں کا جس نے رکھ دیا حلیہ بگاڑ کر
-
موضوع : بوسہ
ہونٹوں پہ تبسم کا لبادہ تو نہیں تھا
اے دل سم اندوہ زیادہ تو نہیں تھا