سوال پر شاعری

انسانی ذہن سوچتا ہے اس لئے وہ سوال بھی بناتا ہے۔ سوال کا تناظرخود انسان کی ذات بھی ہے، دنیا اوراس کے معاملات بھی۔ کبھی سوال کا جواب مل جاتا ہے اور کبھی خود جواب ایک سوال بن جاتا ہے۔ یہی عمل اپنے وسیع مفہوم میں انسانی ارتقا ہے۔ سوال سے وابستہ اورکئی تناظر ہیں جن کا دلچسپ اظہار ہمارا یہ انتخاب ہے۔

زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر

یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو

Priest I know this is a mosque, let me drink inside

Or point me to a place where God does not reside

نامعلوم

کیوں پرکھتے ہو سوالوں سے جوابوں کو عدیمؔ

ہونٹ اچھے ہوں تو سمجھو کہ سوال اچھا ہے

عدیم ہاشمی

مانگ لوں تجھ سے تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے

سو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے

امیر مینائی

زندگی اک سوال ہے جس کا جواب موت ہے

موت بھی اک سوال ہے جس کا جواب کچھ نہیں

امن لکھنوی

جو چاہئے سو مانگیے اللہ سے امیرؔ

اس در پہ آبرو نہیں جاتی سوال سے

امیر مینائی

کبھی کبھی تو یہ دل میں سوال اٹھتا ہے

کہ اس جدائی میں کیا اس نے پا لیا ہوگا

انوار انجم

کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے

سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو

نظیر باقری

کچھ کٹی ہمت سوال میں عمر

کچھ امید جواب میں گزری

فانی بدایونی

عقل میں جو گھر گیا لا انتہا کیوں کر ہوا

جو سما میں آ گیا پھر وہ خدا کیوں کر ہوا

اکبر الہ آبادی

سوال کر کے میں خود ہی بہت پشیماں ہوں

جواب دے کے مجھے اور شرمسار نہ کر

عبد الحمید عدم

دل سے آتی ہے بات لب پہ حفیظؔ

بات دل میں کہاں سے آتی ہے

حفیظ ہوشیارپوری

دوست ہر عیب چھپا لیتے ہیں

کوئی دشمن بھی ترا ہے کہ نہیں

باقی صدیقی

سر محشر یہی پوچھوں گا خدا سے پہلے

تو نے روکا بھی تھا بندے کو خطا سے پہلے

آنند نرائن ملا

غم مجھے دیتے ہو اوروں کی خوشی کے واسطے

کیوں برے بنتے ہو تم ناحق کسی کے واسطے

you heap these sorrows onto me, why for other's sake?

For someone else, needlessly this blame why do you take?

ریاضؔ خیرآبادی

کیا وہ نمرود کی خدائی تھی

بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا

what divinity was it that Nimrod once proclaimed?

Worship was no use to me, it did not compensate

مرزا غالب

جواز کوئی اگر میری بندگی کا نہیں

میں پوچھتا ہوں تجھے کیا ملا خدا ہو کر

شہزاد احمد

جی چاہتا ہے پھر کوئی تجھ سے کروں سوال

تیری نہیں نہیں نے غضب کا مزا دیا

جلیل مانک پوری

نہ مانگیے جو خدا سے تو مانگیے کس سے

جو دے رہا ہے اسی سے سوال ہوتا ہے

لالہ مادھو رام جوہر

سوال یہ ہے کہ آپس میں ہم ملیں کیسے

ہمیشہ ساتھ تو چلتے ہیں دو کنارے بھی

امجد اسلام امجد

جواب آئے نہ آئے سوال اٹھا تو سہی

پھر اس سوال میں پہلو نئے سوال کے رکھ

افتخار عارف

ہم کیا کریں سوال یہ سوچا نہیں ابھی

وہ کیا جواب دیں گے یہ دھڑکا ابھی سے ہے

جلیل مانک پوری

پتھرو آج مرے سر پہ برستے کیوں ہو

میں نے تم کو بھی کبھی اپنا خدا رکھا ہے

حکیم ناصر

وہ تھے جواب کے ساحل پہ منتظر لیکن

سمے کی ناؤ میں میرا سوال ڈوب گیا

بیکل اتساہی

اس سے بہتر جواب کیا ہوگا

کھو گیا وہ مرے سوالوں میں

جوہر سعیدی

کیسے یاد رہی تجھ کو

میری اک چھوٹی سی بھول

باصر سلطان کاظمی

جواب سوچ کے وہ دل میں مسکراتے ہیں

ابھی زبان پہ میری سوال بھی تو نہ تھا

بیخود دہلوی

بہت سی باتیں زباں سے کہی نہیں جاتیں

سوال کر کے اسے دیکھنا ضروری ہے

فصیح اکمل

جو سوتے ہیں نہیں کچھ ذکر ان کا وہ تو سوتے ہیں

مگر جو جاگتے ہیں ان میں بھی بیدار کتنے ہیں

ابو المجاہد زاہد

سوال وصل پر کچھ سوچ کر اس نے کہا مجھ سے

ابھی وعدہ تو کر سکتے نہیں ہیں ہم مگر دیکھو

بیخود دہلوی

جواب دیتا ہے میرے ہر اک سوال کا وہ

مگر سوال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

محسن اسرار

عجیب طرفہ تماشا ہے میرے عہد کے لوگ

سوال کرنے سے پہلے جواب مانگتے ہیں

عباس رضوی

مختار میں اگر ہوں تو مجبور کون ہے

مجبور آپ ہیں تو کسے اختیار ہے

لالہ مادھو رام جوہر

کوئی سوال نہ کر اور کوئی جواب نہ پوچھ

تو مجھ سے عہد گذشتہ کا اب حساب نہ پوچھ

خوشبیر سنگھ شادؔ

ترے جواب کا اتنا مجھے ملال نہیں

مگر سوال جو پیدا ہوا جواب کے بعد

غنی دہلوی

سوال آ گئے آنکھوں سے چھن کے ہونٹوں پر

ہمیں جواب نہ دینے کا فائدہ تو ملا

ابھنندن پانڈے

عمر ہی تیری گزر جائے گی ان کے حل میں

تیرا بچہ جو سوالات لیے بیٹھا ہے

حامد مختار حامد