Fasih Akmal's Photo'

فصیح اکمل

1944 | دلی, ہندوستان

غزل 16

اشعار 10

عمر بھر ملنے نہیں دیتی ہیں اب تو رنجشیں

وقت ہم سے روٹھ جانے کی ادا تک لے گیا

بہت سی باتیں زباں سے کہی نہیں جاتیں

سوال کر کے اسے دیکھنا ضروری ہے

ہماری فتح کے انداز دنیا سے نرالے ہیں

کہ پرچم کی جگہ نیزے پہ اپنا سر نکلتا ہے

مدعا اظہار سے کھلتا نہیں ہے

یہ زبان بے زبانی اور ہے

کتابوں سے نہ دانش کی فراوانی سے آیا ہے

سلیقہ زندگی کا دل کی نادانی سے آیا ہے

کتاب 5

امیر خسرو

میوزیکل اوپیرا

2010

کیلنڈر ایک نظم

 

1985

دہلی کا ایک یاد گارآخری مشاعرہ

 

1846

کلام ہجر

 

1914

سخن سرائے

 

2013

 

آڈیو 12

آج دل بے_قرار ہے میرا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

اس وسعت_کلام سے جی تنگ آ گیا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

"دلی" کے مزید شعرا

  • شیخ ظہور الدین حاتم شیخ ظہور الدین حاتم
  • شاہ نصیر شاہ نصیر
  • فرحت احساس فرحت احساس
  • بیخود دہلوی بیخود دہلوی
  • آبرو شاہ مبارک آبرو شاہ مبارک
  • حسرتؔ موہانی حسرتؔ موہانی
  • بہادر شاہ ظفر بہادر شاہ ظفر
  • شیخ ابراہیم ذوقؔ شیخ ابراہیم ذوقؔ
  • نسیم دہلوی نسیم دہلوی
  • الطاف حسین حالی الطاف حسین حالی