Tarkash Pradeep's Photo'

ترکش پردیپ

1984 | دلی, ہندوستان

غزل 13

اشعار 4

پاگل وحشی تنہا تنہا اجڑا اجڑا دکھتا ہوں

کتنے آئینے بدلے ہیں میں ویسے کا ویسا ہوں

  • شیئر کیجیے

خوب مشکل ہے پر آسان لیا جاتا ہے

کتنا ہلکے میں یہ انسان لیا جاتا ہے

  • شیئر کیجیے

میرا پنجرہ کھول دیا ہے تم بھی عجیب شکاری ہو

اپنے ہی پر کاٹ لیے ہیں میں بھی عجیب پرندہ ہوں

  • شیئر کیجیے

تصویری شاعری 1

کئی اندھیروں کے ملنے سے رات بنتی ہے اور اس کے بعد چراغوں کی بات بنتی ہے کرے جو کوئی تو مسمار ہی نہیں ہوتی نہ جانے کون سے مٹی کی ذات بنتی ہے بناتا ہوں میں تصور میں اس کا چہرہ مگر ہر ایک بار نئی کائنات بنتی ہے اکیلے مجھ کو بنا ہی نہیں سکا کوئی بنانے بیٹھو تو تنہائی ساتھ بنتی ہے

 

متعلقہ شعرا

  • پلو مشرا پلو مشرا ہم عصر
  • وکاس شرما راز وکاس شرما راز ہم عصر
  • وپل کمار وپل کمار ہم عصر

"دلی" کے مزید شعرا

  • شیخ ظہور الدین حاتم شیخ ظہور الدین حاتم
  • شاہ نصیر شاہ نصیر
  • حسرتؔ موہانی حسرتؔ موہانی
  • انشا اللہ خاں انشا انشا اللہ خاں انشا
  • بیخود دہلوی بیخود دہلوی
  • آبرو شاہ مبارک آبرو شاہ مبارک
  • شیخ ابراہیم ذوقؔ شیخ ابراہیم ذوقؔ
  • محمد رفیع سودا محمد رفیع سودا
  • مظہر امام مظہر امام
  • بہادر شاہ ظفر بہادر شاہ ظفر