Tarkash Pradeep's Photo'

ترکش پردیپ

1984 | دلی, ہندوستان

تصویری شاعری 1

کئی اندھیروں کے ملنے سے رات بنتی ہے اور اس کے بعد چراغوں کی بات بنتی ہے کرے جو کوئی تو مسمار ہی نہیں ہوتی نہ جانے کون سے مٹی کی ذات بنتی ہے بناتا ہوں میں تصور میں اس کا چہرہ مگر ہر ایک بار نئی کائنات بنتی ہے اکیلے مجھ کو بنا ہی نہیں سکا کوئی بنانے بیٹھو تو تنہائی ساتھ بنتی ہے

 

متعلقہ شعرا

  • پلو مشرا پلو مشرا ہم عصر
  • وکاس شرما راز وکاس شرما راز ہم عصر
  • وپل کمار وپل کمار ہم عصر

"دلی" کے مزید شعرا

  • میر تقی میر میر تقی میر
  • فرحت احساس فرحت احساس
  • انشا اللہ خاں انشا انشا اللہ خاں انشا
  • آبرو شاہ مبارک آبرو شاہ مبارک
  • شاہ نصیر شاہ نصیر
  • شیخ ابراہیم ذوقؔ شیخ ابراہیم ذوقؔ
  • تاباں عبد الحی تاباں عبد الحی
  • حسرتؔ موہانی حسرتؔ موہانی
  • خواجہ میر درد خواجہ میر درد
  • بیخود دہلوی بیخود دہلوی