Fasih Akmal's Photo'

فصیح اکمل

1944 | دلی, ہندوستان

غزل

پیار جادو ہے کسی دل میں اتر جائے_گا

فصیح اکمل

جو تو نہیں ہے تو لگتا ہے اب کہ تو کیا ہے

فصیح اکمل

چشم_حیرت کو تعلق کی فضا تک لے گیا

فصیح اکمل

دے گیا لکھ کر وہ بس اتنا جدا ہوتے ہوئے

فصیح اکمل

غبار_تنگ_ذہنی صورت_خنجر نکلتا ہے

فصیح اکمل

مدت سے وہ خوشبوئے_حنا ہی نہیں آئی

فصیح اکمل

مضطرب دل کی کہانی اور ہے

فصیح اکمل

منور جسم_و_جاں ہونے لگے ہیں

فصیح اکمل

کتابوں سے نہ دانش کی فراوانی سے آیا ہے

فصیح اکمل

کچھ نیا کرنے کی خواہش میں پرانے ہو گئے

فصیح اکمل

کسی کے سامنے اس طرح سرخ_رو ہوگی

فصیح اکمل

یہ وہ سفر ہے جہاں خوں_بہا ضروری ہے

فصیح اکمل

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI