Basir Sultan Kazmi's Photo'

باصر سلطان کاظمی

1953 | مانچسٹر, انگلستان

جدید شا عر و ناصر کاظمی کے صاحبزادے

جدید شا عر و ناصر کاظمی کے صاحبزادے

غزل 46

اشعار 14

گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی

وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ

کیسے یاد رہی تجھ کو

میری اک چھوٹی سی بھول

جب بھی ملے ہم ان سے انہوں نے یہی کہا

بس آج آنے والے تھے ہم آپ کی طرف

دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو

پھول کو کھلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو

رک گیا ہاتھ ترا کیوں باصرؔ

کوئی کانٹا تو نہ تھا پھولوں میں

کتاب 9

بساط

 

1988

بساط

 

1987

انتخاب انشاء

 

1991

انتخاب میر

 

2001

انتخاب نظیر

 

2003

انتخاب ولی

 

1991

کلیات ناصر کاظمی

 

1957

موج خیال

 

1997

شجرہونے تک

کلیات باصر سلطان کاظمی

2015

 

تصویری شاعری 2

یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے اس قدر ہجر میں کی نجم_شماری ہم نے جان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارا کم ہے دوستی میں تو کوئی شک نہیں اس کی پر وہ دوست دشمن کا زیادہ ہے ہمارا کم ہے صاف اظہار ہو اور وہ بھی کم_از_کم دو بار ہم وہ عاقل ہیں جنہیں ایک اشارا کم ہے ایک رخسار پہ دیکھا ہے وہ تل ہم نے بھی ہو سمرقند مقابل کہ بخارا کم ہے اتنی جلدی نہ بنا رائے مرے بارے میں ہم نے ہم_راہ ابھی وقت گزارا کم ہے باغ اک ہم کو ملا تھا مگر اس کو افسوس ہم نے جی بھر کے بگاڑا ہے سنوارا کم ہے آج تک اپنی سمجھ میں نہیں آیا باصرؔ کون سا کام ہے وہ جس میں خسارا کم ہے

 

ویڈیو 3

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر
بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرف

باصر سلطان کاظمی

کر لیا دن میں کام آٹھ سے پانچ

باصر سلطان کاظمی

مزید دیکھیے

متعلقہ شعرا

  • ناصر کاظمی ناصر کاظمی والد
  • عشرت آفریں عشرت آفریں ہم عصر