ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے

باصر سلطان کاظمی

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے

باصر سلطان کاظمی

MORE BYباصر سلطان کاظمی

    ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے

    اوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے

    مل ان سے کبھی جاگتے ہیں جن کے مقدر

    تیری طرح ہر وقت وہ سوئے نہیں ہوتے

    دن میں جو پھرا کرتے ہیں ہشیار و خبردار

    وہ میری طرح رات کو جاگے نہیں ہوتے

    ہم ان کی طرف سے کبھی ہوتے نہیں غافل

    رشتے وہی پکے ہیں جو پکے نہیں ہوتے

    اغیار نے مدت سے جو روکے ہوئے تھے کام

    اب ہم بھی یہ دیکھیں گے وہ کیسے نہیں ہوتے

    ناکامی کی صورت میں ملے طعنۂ نایافت

    اب کام مرے اتنے بھی کچے نہیں ہوتے

    شب اہل ہوس ایسے پریشان تھے باصرؔ

    جیسے مہ و انجم کبھی دیکھے نہیں ہوتے

    مأخذ :
    • کتاب : Urdu Gazal Ka Magribi Daricha (Pg. 255)
    • Author : Dr. Jawaz Jafri
    • مطبع : Kitabsaray Lahore (Pakistan) (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY