Adeem Hashmi's Photo'

عدیم ہاشمی

1946 - 2001 | لاہور, پاکستان

مقبول پاکستانی شاعر جنہوں نے عوامی تجربات کو آواز دی

مقبول پاکستانی شاعر جنہوں نے عوامی تجربات کو آواز دی

عدیم ہاشمی

غزل 35

نظم 1

 

اشعار 18

فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا

سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا

کیوں پرکھتے ہو سوالوں سے جوابوں کو عدیمؔ

ہونٹ اچھے ہوں تو سمجھو کہ سوال اچھا ہے

اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا

میں نہیں تو کوئی تجھ کو دوسرا مل جائے گا

ہوا ہے جو سدا اس کو نصیبوں کا لکھا سمجھا

عدیمؔ اپنے کیے پر مجھ کو پچھتانا نہیں آتا

بچھڑ کے تجھ سے نہ دیکھا گیا کسی کا ملاپ

اڑا دیئے ہیں پرندے شجر پہ بیٹھے ہوئے

  • شیئر کیجیے

ویڈیو 5

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر
فاصلے ایسے بھی ہوں_گے یہ کبھی سوچا نہ تھا

غلام علی

فاصلے ایسے بھی ہوں_گے یہ کبھی سوچا نہ تھا

انوپ جلوٹا

فاصلے ایسے بھی ہوں_گے یہ کبھی سوچا نہ تھا

جگجیت سنگھ

فاصلے ایسے بھی ہوں_گے یہ کبھی سوچا نہ تھا

انوپ جلوٹا

آڈیو 18

آغوش_ستم میں ہی چھپا لے کوئی آ کر

آیا ہوں سنگ و خشت کے انبار دیکھ کر

اسی ایک فرد کے واسطے مرے دل میں درد ہے کس لئے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ شعرا

"لاہور" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI