فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا

عدیم ہاشمی

فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا

عدیم ہاشمی

MORE BYعدیم ہاشمی

    فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا

    سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا

    وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سو

    میں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا

    رات بھر پچھلی سی آہٹ کان میں آتی رہی

    جھانک کر دیکھا گلی میں کوئی بھی آیا نہ تھا

    میں تری صورت لیے سارے زمانے میں پھرا

    ساری دنیا میں مگر کوئی ترے جیسا نہ تھا

    آج ملنے کی خوشی میں صرف میں جاگا نہیں

    تیری آنکھوں سے بھی لگتا ہے کہ تو سویا نہ تھا

    یہ سبھی ویرانیاں اس کے جدا ہونے سے تھیں

    آنکھ دھندلائی ہوئی تھی شہر دھندلایا نہ تھا

    سینکڑوں طوفان لفظوں میں دبے تھے زیر لب

    ایک پتھر تھا خموشی کا کہ جو ہٹتا نہ تھا

    یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیمؔ

    بھول جانے کے سوا اب کوئی بھی چارا نہ تھا

    مصلحت نے اجنبی ہم کو بنایا تھا عدیمؔ

    ورنہ کب اک دوسرے کو ہم نے پہچانا نہ تھا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    انوپ جلوٹا

    انوپ جلوٹا

    جگجیت سنگھ

    جگجیت سنگھ

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا نعمان شوق

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY